Breaking

برطانیہ میں نئے ویزا قوانین 2025 سے نافذ — پاکستانی کمیونٹی کے لیے اہم تبدیلیاں

رائے22 جون 20257 منٹ پڑھنے کا وقت

کیا برطانوی پاکستانی سیاست میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں؟

پارلیمنٹ سے لے کر مقامی کونسل تک، کمیونٹی کی سیاسی شرکت کا جائزہ — 2024 کے انتخابات میں ریکارڈ 19 پاکستانی نژاد MPs، شبانہ محمود کا Lord Chancellor بننا، اور آگے کا راستہ

کیا برطانوی پاکستانی سیاست میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں؟

یہ مضمون شیئر کریں:

تعارف: ایک تاریخی لمحہ

جولائی 2024 میں جب شبانہ محمود نے برطانیہ کی Lord Chancellor اور Secretary of State for Justice کا حلف اٹھایا، تو یہ صرف ایک سیاسی تقرری نہیں تھی — یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ پہلی بار کوئی مسلمان خاتون، پاکستانی نژاد، برطانیہ کی کابینہ میں اتنے اہم عہدے پر فائز ہوئی۔ اسی انتخاب میں 19 پاکستانی نژاد MPs نے کامیابی حاصل کی — یہ تعداد برطانوی پارلیمانی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

لیکن کیا یہ کافی ہے؟ برطانیہ میں 17 لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد آباد ہیں — مجموعی آبادی کا 2.5 فیصد۔ 650 نشستوں میں سے 19 یعنی 2.9 فیصد — یہ تناسب ابھی بھی ہماری آبادی کے برابر نہیں۔ اس مضمون میں ہم برطانوی پاکستانی سیاسی نمائندگی کا گہرا جائزہ لیں گے — تاریخ سے لے کر آج تک، کامیابیوں سے لے کر چیلنجز تک، اور آگے کے راستے تک۔

تاریخی پس منظر: پہلی نسل سے آج تک

پہلی نسل (1960-1980): خاموش محنت کش

1960 اور 70 کی دہائی میں جب پاکستانی مزدور برطانیہ آئے، تو ان کی توجہ معاشی استحکام پر تھی، سیاست پر نہیں۔ ٹیکسٹائل ملز، فاؤنڈریز، ٹرانسپورٹ — یہ ان کی دنیا تھی۔ بہت سے لوگ انگریزی بھی نہیں بولتے تھے۔ ووٹ دینا تو دور، سیاسی نظام کو سمجھنا بھی مشکل تھا۔

لیکن یہ نسل خاموشی سے برطانیہ کی تعمیر میں لگی رہی۔ NHS میں، سڑکوں پر، فیکٹریوں میں — ان کی محنت نے برطانوی معیشت کو مضبوط کیا۔ یہ سیاسی شرکت کی بنیاد تھی، چاہے اس وقت کسی کو اس کا احساس نہ ہو۔

دوسری نسل (1980-2000): سیاسی بیداری

1980 کی دہائی میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔ دوسری نسل، جو برطانیہ میں پیدا ہوئی اور یہاں تعلیم حاصل کی، نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔ 1997 میں محمد سرور پہلے برطانوی پاکستانی MP بنے — یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جس نے ثابت کیا کہ ہم بھی پارلیمنٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی دہائی میں مقامی کونسلوں میں پاکستانی نمائندگی بڑھنی شروع ہوئی۔ بریڈفورڈ، برمنگھم، مانچسٹر — ان شہروں میں پاکستانی کونسلرز نے اپنی کمیونٹی کے مسائل اٹھانے شروع کیے۔

تیسری نسل (2000-آج): سیاسی طاقت

آج کی نسل زیادہ پُراعتماد، زیادہ تعلیم یافتہ، اور زیادہ سیاسی طور پر باشعور ہے۔ 2016 میں صادق خان کا لندن کا میئر بننا ایک سنگِ میل تھا — پہلی بار کسی بڑے مغربی دارالحکومت میں مسلمان میئر منتخب ہوا۔ 2024 میں شبانہ محمود کا Lord Chancellor بننا اس سفر کا اگلا قدم ہے۔

2024 جنرل الیکشن: ریکارڈ نمائندگی

پارلیمنٹ میں پاکستانی نژاد MPs

2024 کے جنرل الیکشن میں 19 پاکستانی نژاد MPs نے کامیابی حاصل کی — یہ تعداد 2019 کے مقابلے میں 6 زیادہ ہے۔ ان میں سے Labour Party سے 16، Conservative Party سے 2، اور Independent سے 1 MP کامیاب ہوئے۔

شبانہ محمود — Birmingham Ladywood سے MP، Lord Chancellor اور Justice Secretary مقرر۔ برطانیہ کی پہلی مسلمان خاتون کابینہ وزیر۔

صادق خان — لندن کے میئر، 2016 سے مسلسل تیسری بار منتخب۔ لندن کی GDP میں £500 billion سے زائد کا حصہ۔

نصیم شاہ — Bradford West کی MP، 2015 سے مسلسل منتخب۔ Home Affairs Select Committee کی رکن۔

عمران حسین — Bradford East کے MP، تعلیم اور نوجوانوں کے حقوق کے لیے آواز۔

افضل خان — Manchester Rusholme کے MP، سابق MEP اور تجربہ کار سیاستدان۔

مقامی کونسلوں میں نمائندگی

Local Government Association کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، برمنگھم میں 120 کونسلرز میں سے 34 پاکستانی نژاد ہیں، بریڈفورڈ میں 90 میں سے 31، لندن کے ٹاور ہیملٹس میں 45 میں سے 21، مانچسٹر میں 96 میں سے 8، اور لیڈز میں 99 میں سے 11 پاکستانی نژاد کونسلرز ہیں۔

یہ نمائندگی صرف چند علاقوں تک محدود ہے — وہ علاقے جہاں پاکستانی آبادی زیادہ ہے۔ باقی برطانیہ میں ہماری آواز بہت کمزور ہے۔

سیاسی شرکت میں رکاوٹیں: حقیقی وجوہات

ووٹر رجسٹریشن کا بحران

Electoral Commission کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی کمیونٹی میں voter registration کی شرح صرف 67 فیصد ہے، جبکہ قومی اوسط 87 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 200,000 پاکستانی نژاد ووٹرز رجسٹرڈ نہیں ہیں — یہ کئی parliamentary constituencies میں فیصلہ کن تعداد ہو سکتی ہے۔

وجوہات میں زبان کی رکاوٹ، آگاہی کی کمی، بار بار گھر بدلنا، اور سیاست سے بے اعتمادی شامل ہیں۔

معاشی مجبوریاں

سیاست میں وقت اور پیسہ دونوں لگتے ہیں۔ Parliamentary انتخابی مہم چلانے کے لیے اوسطاً £15,000 سے £30,000 درکار ہوتے ہیں۔ Joseph Rowntree Foundation کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، 46 فیصد پاکستانی خاندان poverty line کے قریب یا نیچے ہیں — ایسے میں سیاسی مہم کے لیے وسائل نکالنا مشکل ہے۔

کمیونٹی میں تقسیم

پاکستانی کمیونٹی متحد نہیں ہے۔ مذہبی، لسانی اور علاقائی تقسیمیں سیاسی طاقت کو کمزور کرتی ہیں۔ بریڈفورڈ میں 2021 کے کونسل انتخابات میں پاکستانی ووٹ تین مختلف امیدواروں میں تقسیم ہو گئے، جس کی وجہ سے ایک غیر پاکستانی امیدوار کامیاب ہوا۔

Islamophobia اور نسلی تعصب

Tell MAMA کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، سیاسی میدان میں مسلمان امیدواروں کو خاص طور پر Islamophobic حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2024 کے انتخابات میں کئی پاکستانی نژاد امیدواروں کو آن لائن نفرت انگیز پیغامات اور دھمکیاں ملیں۔

پاکستانی کمیونٹی کی سیاسی طاقت: اعداد و شمار

Swing Constituencies میں اثر

برطانیہ میں 50 سے زائد parliamentary constituencies ایسی ہیں جہاں پاکستانی نژاد ووٹرز نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ Bradford West میں 38 فیصد، Birmingham Ladywood میں 31 فیصد، Luton South میں 28 فیصد، Blackburn میں 26 فیصد، اور Rochdale میں 24 فیصد پاکستانی نژاد ووٹرز ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں کئی constituencies میں پاکستانی ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوا۔

معاشی طاقت

Office for National Statistics کے مطابق، پاکستانی نژاد کاروباری افراد برطانوی معیشت میں سالانہ £26 billion سے زائد کا حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ معاشی طاقت سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل ہو سکتی ہے — لیکن ابھی تک یہ تبدیلی مکمل نہیں ہوئی۔

نئی نسل کی سیاسی بیداری

Runnymede Trust کی 2024 کی تحقیق کے مطابق، 18-35 سال کے 71 فیصد برطانوی پاکستانی نوجوان سیاست میں "بہت دلچسپی" رکھتے ہیں — یہ 2010 کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ ہے۔

سوشل میڈیا کا کردار

سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو ایک نئی آواز دی ہے۔ Twitter، Instagram، TikTok پر نوجوان پاکستانی سیاسی مسائل پر بات کرتے ہیں، مہمات چلاتے ہیں، احتجاج منظم کرتے ہیں۔ 2023 میں Gaza کے حوالے سے برطانیہ میں جو احتجاجی مظاہرے ہوئے، ان میں برطانوی پاکستانی نوجوانوں کا کردار نمایاں تھا — اور اس نے کئی MPs کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔

یونیورسٹیوں میں سیاسی شرکت

Oxford Union، Cambridge Union میں پاکستانی نژاد طلباء بحثیں جیت رہے ہیں۔ National Union of Students میں پاکستانی نژاد طلباء leadership roles میں آ رہے ہیں۔ 2024 کے مقامی انتخابات میں 18-30 سال کے 47 پاکستانی نژاد نوجوانوں نے کونسل الیکشن لڑا — 2019 کے مقابلے میں دوگنا — اور ان میں سے 31 کامیاب ہوئے۔

آگے کا راستہ: عملی تجاویز

ووٹر رجسٹریشن مہمات

ہر انتخاب سے پہلے کمیونٹی سطح پر ووٹر رجسٹریشن مہمات چلانی چاہیے۔ مساجد، کمیونٹی سینٹرز، اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی پھیلائیں۔ Electoral Commission کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن صرف 5 منٹ میں ہو سکتی ہے۔ www.gov.uk/register-to-vote پر جائیں اور آج ہی رجسٹر کریں۔

سیاسی تعلیم

کمیونٹی سینٹرز اور مساجد میں سیاسی تعلیم کی ورکشاپس ہونی چاہیے۔ نوجوانوں کو بتایا جائے کہ ووٹ کیسے کام کرتا ہے، کونسل کیا کرتی ہے، MP کا کردار کیا ہے، اور وہ اپنے حلقے کے مسائل کیسے اٹھا سکتے ہیں۔

نوجوانوں کی حوصلہ افزائی

نوجوانوں کو سیاست میں آنے کی ترغیب دیں۔ مینٹرشپ پروگرام شروع کریں جہاں تجربہ کار سیاستدان نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ Operation Black Vote اور Muslim Council of Britain جیسی تنظیمیں یہ کام کر رہی ہیں — انہیں support کریں۔

کمیونٹی کی یکجہتی

مذہبی اور لسانی تقسیموں سے اوپر اٹھ کر، مشترکہ مسائل پر متحد ہوں۔ ہاؤسنگ، تعلیم، صحت، روزگار — یہ سب کے مسائل ہیں۔ جب ہم متحد ہوتے ہیں تو ہماری آواز زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

مقامی سطح سے شروعات

پارلیمنٹ کا خواب دیکھنے سے پہلے، مقامی کونسل میں کام کریں۔ اپنے علاقے کے مسائل حل کریں۔ اعتماد بنائیں۔ مقامی سیاست سے قومی سیاست تک کا سفر قدرتی ہے — صادق خان، شبانہ محمود، سب نے یہی راستہ اختیار کیا۔

سیاسی جماعتوں میں شمولیت

صرف ووٹ دینا کافی نہیں — سیاسی جماعتوں میں شامل ہوں، ان کی meetings میں جائیں، candidate selection میں حصہ لیں۔ Labour، Conservative، Liberal Democrats — جس جماعت کی اقدار آپ کے قریب ہوں، اس میں فعال کردار ادا کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

نتیجہ: تبدیلی آ رہی ہے

برطانوی پاکستانی کمیونٹی سیاسی طور پر بیدار ہو رہی ہے۔ 2024 کے انتخابات نے ثابت کیا کہ ہم پارلیمنٹ میں، کابینہ میں، اور میئر کے دفتر میں پہنچ سکتے ہیں۔ شبانہ محمود کا Lord Chancellor بننا، صادق خان کا تیسری بار میئر بننا — یہ صرف ان افراد کی کامیابی نہیں، یہ پوری کمیونٹی کی کامیابی ہے۔

لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ ہماری آبادی کے تناسب سے ہماری سیاسی نمائندگی ابھی بھی کم ہے۔ 200,000 غیر رجسٹرڈ ووٹرز، کمیونٹی میں تقسیم، معاشی مجبوریاں — یہ سب چیلنجز ہیں جن پر قابو پانا ہوگا۔

تبدیلی آ رہی ہے — ہر انتخاب میں، ہر کونسل میٹنگ میں، ہر نوجوان کی آواز میں جو سیاست میں قدم رکھ رہا ہے۔ ہمیں اس رفتار کو تیز کرنا ہے۔ کیونکہ جب ہم سیاست میں ہوتے ہیں، تو ہمارے مسائل حل ہوتے ہیں — ہاؤسنگ، تعلیم، صحت، روزگار۔ سیاست ہماری زندگی ہے — اور ہماری زندگی سیاست ہے۔

کیا یہ گائیڈ مددگار تھی؟

آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر طارق محمود
ڈاکٹر طارق محمود

برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے لکھنے والے تجربہ کار صحافی

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

0/500

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!

فہرست