پاکستان کے اعلیٰ سطح اجلاس میں افغانستان اور خطے کی صورت حال پر غور

پاکستان کے اعلیٰ سطح اجلاس میں افغانستان اور خطے کی صورت حال پر غور

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں اتوار کو اعلیٰ سطح اجلاس میں افغانستان میں جاری کارروائی سمیت پاکستان اور خطے کی سکیورٹی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ایوان وزیر اعظم سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزرا احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

یہ اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان افغانستان کی جانب سے حملے کے بعد فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کی شام بتایا کہ ’اب تک آپریشن غضب للحق کے دوران 415 افغان طالبان کے آپریٹیوز مارے گئے اور 580 زخمی ہو چکے ہیں۔‘

عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی تازہ ترین معلومات کے مطابق ’پاکستانی سکیورٹی فورسز نے 182 افغان چیک پوسٹس تباہ اور 31 دیگر قبضے میں لے لی ہیں۔‘

وزیر اطلاعات کے مطابق: ’اس آپریشن کے دوران 185 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنیں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔ افغانستان کے 46 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔‘

اتوار کے اجلاس میں خطے میں امن کے قیام کے امکانات زیر غور آئے جبکہ افغانستان میں جاری صورت حال پر بھی مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دوران ملک کی داخلی سکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کی ہدایت پر ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کے انخلا کے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے دفترِ خارجہ کی جانب سے تمام انتظامات اور ممکنہ راستوں، بشمول آذربائیجان کے ذریعے انخلاء کے طریقہ کار، پر روشنی ڈالی گئی۔

اس اجلاس کے ذریعے حکومت نے علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اقدامات کو فعال رکھنے اور پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

بعد ازاں وزیراعظم نے اردن کے فرمانروا عبداللہ دوم ابن الحسین سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی پر بات چیت کی۔

وزیراعظم نے پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور بامقصد مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے اردن سمیت خطے کے دیگر برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور امن کی بحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت پر قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں