امریکی مدد سے ایران پر حملہ کر دیا ہے: اسرائیل

امریکی مدد سے ایران پر حملہ کر دیا ہے: اسرائیل

اسرائیل نے ہفتے کو کہا کہ اس نے امریکہ کی مدد سے ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کی ایرانی حکام نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تہران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، اور یہ جواب منہ توڑ ہو گا۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا کہ ہدف کیا تھا، لیکن یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ’خطرات کو ختم کرنے کے لیے‘ کیا گیا حملہ قرار دیا۔ انہوں نے فوری طور پر اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

ایک امریکی عہدیدار اور اس آپریشن سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ ان حملوں میں شامل ہے۔ تاہم امریکی شمولیت کس حد تک ہے، یہ واضح نہیں۔

اے پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا ایران کے 86 سالہ سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای اس وقت اپنے دفاتر میں موجود تھے۔ امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے باعث وہ کئی دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

ایک ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، اور یہ جواب منہ توڑ ہو گا۔

ایران میں دھماکوں کی آوازیں، فضائی حدود بند

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تہران میں یونیورسٹی سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔

اسی طرح اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اے ایف پی نے تسنیم نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی سول ایوی ایشن ایجنسی نے بتایا ہے کہ دارالحکومت تہران اور دیگر مقامات پر متعدد دھماکوں کے بعد ایران نے ہفتے کو اپنی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کر دی ہے۔

ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ’پورے ملک کی فضائی حدود تاحکم ثانی بند رہیں گی۔‘

اسرائیل میں سائرن بج اٹھے، سکول، فضائی حدود بند

اسی وقت اے پی کے مطابق اسرائیل کے مختلف حصوں میں بھی سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو یہ تیاری دینے کے لیے ایک پیشگی الرٹ جاری کیا کہ ممکن ہے ریاست اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘

روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ملک میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے اعلان کیا کہ ’سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر اسرائیل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر کو ریاست اسرائیل کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

اے پی کے مطابق امریکی فوج نے اس حملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

حملوں سے ایرانی جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں مزید مدھم

اس نئی صورت حال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے۔

گذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔

امریکہ اور ایران نے فروری میں سفارت کاری کے ذریعے اس دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔

تاہم، اسرائیل کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی معاہدے میں صرف افزودگی کے عمل کو روکنا ہی نہیں بلکہ تہران کے جوہری ڈھانچے کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے اور اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو بھی شامل کرے۔

ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس معاملے کو میزائلوں کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔

تہران نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

اس نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو نشانہ بنایا تو وہ امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔

جون میں، امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف ایک اسرائیلی فوجی مہم کا حصہ بنا تھا، جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف اب تک کی سب سے براہ راست امریکی فوجی کارروائی تھی۔

جس پر تہران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی ہوائی اڈے ’العدید‘ کی جانب میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی۔

مغربی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل منصوبہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اگر اسے مزید تیار کر لیا گیا تو یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم تہران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں