پاکستان نے جمعرات کی شب کہا ہے کہ سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال حملے کا فوری اور موثر جواب دیا گیا ہے جس میں وزارت اطلاعات کے مطابق اب تک 36 کے قریب افغان اہلکار جبکہ دو پاکستانی فوجی جان سے گئے ہیں۔
افغان طالبان حکومت نے اب سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ان کی افواج نے سرحد پر پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاکستان-افغانستان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کر کے سنگین غلطی کی، جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔‘
وزارت اطلاعات کے مطابق ’چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان فورسز کو جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔
افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا.
افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پرپیگینڈا کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.
خوش فہمیوں پر…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 26, 2026
’ابتدائی رپورٹس کے مطابق افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد چوکیاں اور سازوسامان تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اب تک پاکستان فوج کی کارروائی میں ’افغان طالبان رجیم کے 36 اہلکار جان سے گئے‘ جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے تصدیق کی کہ ان جھڑپوں میں پاکستان فوج کے دو اہلکار بھی جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہیں۔
Update on the situation at the Pakistan-Afghanistan border as of 2340 hrs Thursday February 26
Alhamdolillah, not only have no Pakistani posts been captured or damaged, but the Pakistani side has inflicted heavy losses across the Pakistan-Afghanistan border in response to…
— Mosharraf Zaidi (@mosharrafzaidi) February 26, 2026
جبکہ باجوڑ پولیس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ سرحد پر کشیدگی کے دوران ایک خاتون جان جان سے گئی ہیں اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں خار ہسپتال منتقل کیا گیا۔
افغانستان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایکس پر پشتو اور اردو میں اپنے سلسلہ وار بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’افغان فورسز نے پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بعض پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔‘
تاہم وزیر اعظم پاکستان کے غیرملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے افغان ترجمان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی بھی پاکستانی چوکی نہ تو قبضے میں لی گئی اور نہ ہی اسے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم طالبان جارحیت کے جواب میں پاکستان نے سرحد پار بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اب تک، کوئی پاکستانی فوجی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی پاکستانی فوجی شہید ہوا ہے۔ اب تک پاکستان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے دعوے صرف انڈیا کے افغانستان میں موجود ایجنٹس کے خیالات سے زیادہ کچھ نہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔‘
اس سے قبل پاکستان نے 21 فروری کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔
