جھڑپوں میں افغان طالبان کے 36 اہلکاروں، دو پاکستانی فوجیوں کی موت: پاکستان کی تصدیق

جھڑپوں میں افغان طالبان کے 36 اہلکاروں، دو پاکستانی فوجیوں کی موت: پاکستان کی تصدیق

پاکستان نے جمعرات کی شب کہا ہے کہ سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال حملے کا فوری اور موثر جواب دیا گیا ہے جس میں وزارت اطلاعات کے مطابق اب تک 36 کے قریب افغان اہلکار جبکہ دو پاکستانی فوجی جان سے گئے ہیں۔

افغان طالبان حکومت نے اب سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ان کی افواج نے سرحد پر پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس کے جواب میں پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاکستان-افغانستان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کر کے سنگین غلطی کی، جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔‘

وزارت اطلاعات کے مطابق ’چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان فورسز کو جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔

’ابتدائی رپورٹس کے مطابق افغانستان کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد چوکیاں اور سازوسامان تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اب تک پاکستان فوج کی کارروائی میں ’افغان طالبان رجیم کے 36 اہلکار جان سے گئے‘ جبکہ  متعدد زخمی ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے تصدیق کی کہ ان جھڑپوں میں پاکستان فوج کے دو اہلکار بھی جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہیں۔

جبکہ باجوڑ پولیس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ سرحد پر کشیدگی کے دوران ایک خاتون جان جان سے گئی ہیں اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں خار ہسپتال منتقل کیا گیا۔

افغانستان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو ایکس پر پشتو اور اردو میں اپنے سلسلہ وار بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’افغان فورسز نے پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بعض پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔‘

تاہم وزیر اعظم پاکستان کے غیرملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے افغان ترجمان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی بھی پاکستانی چوکی نہ تو قبضے میں لی گئی اور نہ ہی اسے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم طالبان جارحیت کے جواب میں پاکستان نے سرحد پار بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب تک، کوئی پاکستانی فوجی گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی پاکستانی فوجی شہید ہوا ہے۔ اب تک پاکستان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے دعوے صرف انڈیا کے افغانستان میں موجود ایجنٹس کے خیالات سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔‘

اس سے قبل پاکستان نے 21 فروری کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان سے منسلک شدت پسندوں کے سات مختلف ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جس کے جواب میں افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ افغان سرزمین پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کا فوجی جواب دے گی۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں