اے آئی کے تباہ کن اثرات پر رپورٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تہلکہ مچ گیا

اے آئی کے تباہ کن اثرات پر رپورٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں تہلکہ مچ گیا

مصنوعی ذہانت کے ساتھ انسانیت کے مستقبل کا ایک تباہ کن منظر نامہ پیش کرنے والی ایک نئی رپورٹ وائرل ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بڑی ٹیک اور مالیاتی کمپنیوں کے سٹاک کی قیمتیں گر گئی ہیں۔

اتوار کو سٹرینی ریسرچ کی جانب سے شائع ہونے والے ’دی 2028 گلوبل انٹیلی جنس کرائسز‘ میں وائٹ کالر ملازمتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرے پر ایک تباہ کن قسم کا لب و لہجہ اپنایا گیا ہے اور ان حالات پر بات کی گئی ہے جو ممکنہ طور پر ایک ’عالمی انٹیلی جنس بحران‘ کا باعث بن سکتے ہیں۔

سٹرینی ریسرچ نے رپورٹ میں لکھا ہے، ’جدید معاشی تاریخ کے پورے دورانیے میں انسانی ذہانت ایک نایاب جزو رہی ہے۔ اب ہم اس اہمیت کے خاتمے کا تجربہ کر رہے ہیں۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا: ’مشینی ذہانت اب کاموں کی ایک بڑھتی ہوئی رینج میں انسانی ذہانت کا ایک قابل اور تیزی سے بہتر ہونے والا متبادل ہے۔ مالیاتی نظام، جسے دہائیوں سے نایاب انسانی ذہنوں کی دنیا کے لیے بہتر بنایا گیا تھا، اب اپنی قیمتوں کا ازسرِ نو تعین کر رہا ہے۔ یہ نیا تعین تکلیف دہ، بےترتیب اور تکمیل سے بہت دور ہے۔‘

سٹرینی ریسرچ کی بنیاد جیمز وان گیلن نے رکھی تھی، جنہوں نے یہ پوسٹ الاپ شاہ کے ساتھ مل کر لکھی، جو اے آئی پر مرکوز انویسٹمنٹ فنڈ لوٹس ٹیکنالوجی مینجمنٹ چلانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، 2023 میں شروع ہونے والی یہ چھوٹی ریسرچ فرم سب سٹیک پر صفِ اول کے فنانس بلاگز میں سے ایک ہے۔

مصنفین نے نوٹ کیا کہ یہ مضمون کوئی پیش گوئی نہیں، بلکہ ایک فرضی صورت حال ہے جیسے کہ یہ جون 2028 ہو، اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا ’اے آئی کے بارے میں ہماری تیزی کا رجحان درست ثابت ہوتا ہے، اور کیا ہو اگر یہ دراصل مندی کا رجحان ہو؟‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس انتباہی نوٹ کے باوجود یہ رپورٹ پیر کو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں نو فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ، جن میں ’ڈیٹا ڈاگ،‘ ’کراؤڈ سٹرائیک‘ اور ’زی سکیلر‘ شامل ہیں۔

آئی بی ایم، جس کا ایک مربوط اے آئی ڈیولپمنٹ سٹوڈیو ’واٹسن ایکس‘ ہے، کے سٹاک میں بھی 13 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جو سال 2000 کے بعد اس کی بدترین ایک روزہ کارکردگی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سٹرینی کی پوسٹ میں ذکر کردہ امریکن ایکسپریس، کے کے آر اور بلیک سٹون کے حصص بھی گر گئے۔

اس مضمون میں ڈیلیوری ایپ ڈور ڈیش کو اس بات کی ’نمایاں مثال‘ قرار دیے جانے کے بعد پیر کو اس کے حصص میں 6.6 فیصد کی کمی آئی کہ کس طرح نئی اے آئی ٹیکنالوجی ان کاروباروں کو متاثر کرے گی جو نام نہاد ’باہمی رگڑ‘ (interpersonal friction) سے منافع کماتے ہیں۔

سٹرینی نے تجویز دی کہ مستقبل میں، اے آئی ایجنٹس ڈرائیوروں اور گاہکوں کو بہت کم قیمت پر فوڈ ڈیلیوری پہنچانے میں مدد کریں گے۔

ڈور ڈیش کے شریک بانی اینڈی فینگ نے اس رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ’ایجنٹک کامرس انڈسٹری کے لیے انقلابی ثابت ہو گی‘، ان کا اشارہ گاہکوں کی جانب سے اے آئی ایجنٹس کے ذریعے کی جانے والی خریداری کی طرف تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ہی، ان کی کمپنی کو اے آئی ایجنٹس اور گاہکوں دونوں کے لیے کام کرنے کے طریقوں میں ارتقا لانے کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’ہمارے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی ہے، اور انڈسٹری کو اس کے مطابق ڈھلنے کی ضرورت ہو گی۔‘

مصنوعی ذہانت گذشتہ دو برسوں سے عالمی مالیاتی منڈیوں کو چلا رہی ہے، اگرچہ ماہرین نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا سرمایہ کاروں کے حد سے زیادہ اعتماد کی وجہ سے یہ سٹاک مارکیٹ کا ایک ’بلبلہ‘ ہے۔ بلبلے خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ قیمتیں کمپنیوں کی اصل مالیت سے کٹ جاتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بغیر کسی وارننگ کے اچانک گر سکتی ہیں۔

اے آئی کے عروج کو تمام صنعتوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے، تاہم کچھ نوجوانوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی انٹری لیول کی نوکریاں چھین لے گی۔ تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی 2025 کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ اے آئی کے استعمال سے روزگار اور فرمز کی ترقی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس سے بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم نہیں ہوئیں۔

انویسٹمنٹ سٹریٹجی ریسرچ فرم گاما روڈ کیپیٹل پارٹنرز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر جارڈن ریزوٹو نے جرنل کو بتایا کہ اے آئی کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے خدشات ’زیادہ تر لوگوں کی توقع سے کہیں جلدی حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی فطرت ایسی ہی ہوتی ہے۔‘

امریکی تجارتی پالیسی پر تازہ ترین غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے پیر کو عالمی سٹاک مارکیٹس میں بھی مندی رہی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اختتامِ ہفتہ پر کہا تھا کہ وہ اپنی عالمی ٹیرف کی شرح بڑھا کر 15 فیصد کر دیں گے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ان کے وسیع عالمی ٹیرف غیر قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں