پاکستانی فوج نے ہفتے کو بتایا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘کے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار جان سے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔
’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔
تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 21 فروری کو بنوں میں عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا، جب ایک خودکش بمبار کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جا رہا تھا۔
بیان کے مطابق ’گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو (سکیورٹی فورسز کے) ابتدائی دستے نے بروقت روک لیا، جس سے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی اس کی مذموم سازش ناکام بنا دی گئی اور ایک بڑے سانحے سے بچاؤ ممکن ہوا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کا سراغ لگایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد پانچ عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا، تاہم عسکریت پسندوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی ابتدائی دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور پشاور کے 28 سالہ سپاہی کرامت شاہ جان کی بازی ہار گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے مطابق: خوارج افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ماہِ مقدس رمضان کی حرمت کو پامال کر رہے ہیں۔ یہ بات واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’افغان طالبان حکومت ایک بار پھر خوارج کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ وہ بھی ماہِ مقدس رمضان میں۔ پاکستان کسی قسم کی ضبط و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے مرتکبین کے خلاف، ان کے مقام سے قطع نظر کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘
بقول آئی ایس پی آر: ’قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ بیرونی سرپرستی اور معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
’ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہر قیمت پر وطن کے تحفظ کے ہمارے غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔‘
نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد سے پاکستان میں عسکریت پسندی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ عسکریت پسندوں کی اموات کے باوجود، پاکستان میں 2025 میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں عسکریت پسندانہ حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا اور عسکریت پسندی سے متعلقہ اموات میں سال بہ سال 21 فیصد اضافہ رہا۔
