فلسطینیوں کے ڈراؤنے خواب کا خاتمہ ضروری

فلسطینیوں کے ڈراؤنے خواب کا خاتمہ ضروری

ایک بشپ اور ایک ربی زیتون کا درخت لگانے کھیت میں گئے۔ یہ کسی لطیفے کی شروعات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن وہ کھیت بیت جالا کے باہر، مقبوضہ فلسطین میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی حامل خوبصورت وادی المخرور میں تھا۔

پہاڑی پر ہمارے اوپر ایک غیر قانونی اسرائیلی بستی تھی اور حال ہی میں نوجوان آباد کاروں نے چند سو میٹر کے فاصلے پر کارواں کی ایک چوکی پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے دھونس، تشدد اور چوری کے ذریعے مقامی سطح پر تباہی مچا رکھی تھی، بظاہر یہ سب کچھ فلسطینی کسانوں کو ڈرانے دھمکانے اور انہیں ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس کا مقصد؟ مغربی کنارے میں یہ صاف دکھائی دیتا ہے: فلسطینی مالکان کو باہر نکالیں اور زمین آباد کاروں کی ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکومت اور بہت سے غیر ملکی فنڈرز کی حمایت یافتہ آباد کاروں کی توسیع کا پروگرام غزہ میں جنگ کے دوران بھی مسلسل جاری رہا ہے۔

کم از کم ان نوجوان غنڈوں کو اسرائیلی حکام نے وہاں سے ہٹا دیا تھا، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اور میں سوچتا ہوں کہ وہ کب تک وسیم کے کھیت میں واپس آئیں گے، زیتون کے درخت اکھاڑیں گے، املاک کو نقصان پہنچائیں گے، اور اسے اور اس کے خاندان کو لاٹھیوں اور اس سے بھی بدتر چیزوں سے دھمکائیں گے؟

وہ مجھے بتاتا ہے کہ مقامی اسرائیلی پولیس کو بلانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ پولیس ہمیشہ آباد کاروں کا ساتھ دیتی ہے۔ اکثر و بیشتر، یہ فلسطینی شکایت کنندہ ہی ہوتا ہے جو جھوٹے الزامات کے تحت جیل کی کوٹھری میں پہنچ جاتا ہے۔

ایک بشپ اور ایک ربی کا زیتون کا درخت لگانے کے لیے کھیت میں جانا حضرت عیسیٰ کی بہت سی تمثیلوں کی ابتدا جیسا بھی لگتا ہے، ’ایک کسان اپنا بیج بونے نکلا‘، یا ’ایک آدمی یروشلم سے جریکو جا رہا تھا۔‘

درحقیقت، وہ صبح ایک زندہ تمثیل تھی۔ میں وہاں گلوسٹر اور چیمسفورڈ کے بشپس کے ساتھ درخت لگا رہا تھا، اور ہمارے ساتھ ’ریبائز فار ہیومن رائٹس‘ کے ربی اور کارکن بھی موجود تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ شجرکاری مذہبی بنیادوں پر مبنی فعالیت کا ایک عمل تھی، یہودی اور عیسائی پرامن مزاحمت اور استقامت کا مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی تمثیل کو عملی جامہ پہنا رہے تھے۔ ہم نے زمین کی شناخت کے طور پر بات کی۔ ہم نے اس زمین کی حساس ماحولیات کے اندر رہنے پر فلسطینیوں کا فخر، اور آباد کاروں کی طرف سے مسکن کی تباہی پر ان کا غصہ سنا۔ زمین فلسطینیوں کو معاشی سہارا فراہم کرتی ہے، پھر بھی اکثر انہیں اسرائیلی ڈیفنس فورس اور آباد کاروں کی طرف سے اپنی فصلیں کاٹنے سے روکا جاتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماحولیات اور معیشت دونوں یونانی لفظ ’oikos‘ سے نکلے ہیں، جس کا مطلب ہے ’گھر‘، ’خاندان‘ یا ’رہائش گاہ۔‘ زمین فلسطینیوں کے گھر کے احساس کی جڑوں تک جاتی ہے۔ انہیں پرتشدد طریقے سے اس سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہیں لوٹا جا رہا ہے۔ اور اکثر ان کی آوازیں ان سنی کر دی جاتی ہیں۔

میں 30 سال سے زیادہ عرصے سے اس خطے کا اکثر سفر کرتا رہا ہوں۔ میں نے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو سنا ہے۔ میں اسرائیل کے وجود کا دفاع کرتا ہوں۔ میں سات اکتوبر کو یروشلم میں تھا، اور بعد میں حماس کے اسرائیل پر شیطانی حملے کے بعد غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے باوجود یہ تازہ ترین دورہ اس بات کا انکشاف تھا کہ اب مغربی کنارے میں کیا ہو رہا ہے۔

پورے مغربی کنارے میں، ہم تینوں بشپس نے ایک کے بعد ایک شہادت سنی۔ آباد کاروں کی بلا روک ٹوک توسیع، نئی بستیاں اور چوکیاں، اسرائیلی فوجیوں اور آباد کار ملیشیا کی طرف سے بڑھتا ہوا تشدد، انتظامی حراست کا وسیع پیمانے پر استعمال (بغیر کسی الزام کے یا قید کی مدت کا علم ہوئے)، مقامی سڑکوں کی بندش، جس میں تقریباً ایک ہزار نئے دروازے فلسطینی برادریوں کو بند کر رہے ہیں، اور پانی اور بجلی تک رسائی پر بڑھتی ہوئی پابندیاں۔ یہ سب اب فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔

ہمیں رام اللہ سے یروشلم تک کا آٹھ میل کا فاصلہ قلندیہ چیک پوائنٹ کے ذریعے طے کرنے میں ساڑھے تین گھنٹے لگے۔ اس سے ملازمت پر جانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہسپتال کی اپائنٹمنٹس اور جنازے چھوٹ جاتے ہیں۔ جذباتی اور نفسیاتی اثرات صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

فلسطینی ہمیں بار بار بتاتے رہے، ’ہمارا دم گھٹ رہا ہے۔ وہ ہماری زندگیوں کو برباد کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ہم یہاں سے چلے جائیں۔‘ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نسلی صفائی کی ایک سست شکل ہے۔ اس ڈراؤنے خواب کا خاتمہ ضروری ہے۔

حضرت عیسیٰ کی تمثیلوں میں اکثر ایک موڑ ہوتا ہے، جس میں سننے والوں کے لیے بیداری کی کال دی جاتی ہے۔ اچھی مٹی شاندار فصل پیدا کرتی ہے۔ کیا اسرائیل فلسطین تنازع کی کہانی کو انصاف، امن اور مصالحت پر مبنی زیادہ امید بھری فصل کی طرف موڑ سکتا ہے؟

یہودی ربیوں اور عیسائی بشپوں کی طرف سے زیتون کے درختوں کا لگانا یکجہتی اور امید کی صرف ایک چھوٹی سی علامت تھی۔ عیسائی صحیفوں کے آخر میں ہم پڑھتے ہیں کہ ’درختوں کے پتے قوموں کی شفا کے لیے ہیں۔‘

قوموں کو اب بیدار ہونے کی ضرورت ہے اور اس استثنا کے کلچر کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے جو مغربی کنارے کے ڈی فیکٹو الحاق کے اسرائیلی حکومت کے اقدامات کو جائز قرار دیتا ہے۔

بین الاقوامی برادری کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور فلسطینی حقوق کا بھرپور دفاع کرنا چاہیے، تاکہ کسان وسیم کے بچوں کے بچے ایک دن ان درختوں کے نیچے بیٹھ سکیں جو ہم نے لگائے ہیں۔

نوٹ: اس کالم کے مصنف گریم اشر برطانوی علاقے نورچ کے آرچ بشپ ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں