کیا نیند ذہنی صحت کا گمشدہ حصّہ ہے؟

کیا نیند ذہنی صحت کا گمشدہ حصّہ ہے؟

پاکستان اور دنیا بھر میں ذہنی صحت کے مسائل میں نیند کا کردار اب واضح ہو رہا ہے۔ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ پہلے ڈپریشن آیا یا بے خوابی؟

کیوں کچھ افراد جو ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں، کم نیند لیتے ہیں جبکہ دیگر زیادہ سوتے ہیں؟

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ نیند اور ذہنی صحت کے درمیان پیچیدہ اور دو طرفہ تعلق ہے، اور نیند کی عادات بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اور بعض اوقات سپلیمنٹس جیسے میلاٹونن کی مدد لی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر لارین واٹرمین، مشاورتی نفسیاتی ماہر اور بے خوابی کی ماہر، کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی اور بے خوابی میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ بے خوابی وہ ہے جب دماغ کے اندرونی عوامل نیند میں خلل ڈالتے ہیں، جبکہ نیند کی کمی اس وقت ہوتی ہے جب باہر کے عوامل جیسے شور، بچے کی چیخ یا دیگر ماحول کی وجہ سے نیند میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ویکسین گائیڈ لائنز میں تبدیلیوں سے ہیلتھ سیکٹرز چیلنجز کا شکار

ماہرین کے مطابق بے خوابی کا اثر آہستہ آہستہ ہوتا ہے، اور دماغ عموماً کم نیند میں بھی مؤثر طریقے سے کام کرنا سیکھ لیتا ہے، جبکہ شدید نیند کی کمی طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے جیسے دل کے امراض۔

تحقیق کے مطابق نیند کے دوران دماغ مختلف مراحل سے گزرتا ہے: ہلکی نیند، گہری نیند اور REM نیند (جہاں خواب دیکھتے ہیں)۔

سب سے گہری نیند رات کے ابتدائی تین گھنٹوں میں ہوتی ہے، اس لیے اگر بے خوابی کے شکار لوگ کم سوتے ہیں، تو بھی ان کی دماغی کارکردگی بعض اوقات بہتر رہتی ہے کیونکہ دماغ نے نیند کے معیار کو مختصر وقت میں جمع کرنا سیکھ لیا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر واٹرمین نے بتایا کہ اکثر لوگ ہر گھنٹے میں 10 سے 15 بار بیدار ہوتے ہیں، لیکن یہ اتنا مختصر ہوتا ہے کہ ہمیں یاد نہیں رہتا۔ مسئلہ اصل میں بیداری میں نہیں بلکہ اس کے بعد دوبارہ نیند نہ آنے میں ہے۔

بے خوابی کے شکار لوگ ہر بار بیدار ہونے پر نیند کے بارے میں فکر مند ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی نیند مزید متاثر ہوتی ہے۔

نیند اور ذہنی صحت کے اس تعلق کو سمجھ کر ہم اپنے روزمرہ کے طرز زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔

بہتر نیند کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے:

نیند کے شیڈول کو باقاعدہ رکھنا

ذہنی دباؤ کم کرنا

ماحول کو پرسکون بنانا

ضرورت ہو تو ماہر نفسیات یا ڈاکٹر کی مدد لینا

ماہرین کے مطابق نیند ہماری دماغی صحت اور مجموعی کارکردگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ نیند کے معیار اور مقدار پر توجہ دینے سے نہ صرف ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی میں جذبات، سوچ اور رویے پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں