کیا روزہ رکھنے یا بھوکا رہنے سے وزن کم ہوتا ہے؟ نئی تحقیق میں حقیقت سامنے آگئی
وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والی غذا کو وزن کم کرنے کا مؤثر طریقہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں وقفے وقفے سے روزہ رکھنے والی غذا کو وزن کم کرنے کا مؤثر طریقہ قرار دیا جاتا رہا ہے تاہم نئی جامع تحقیق نے اس دعوے پر سوال اٹھا دیا ہے۔
مختلف طبی مطالعات کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کا طریقہ روایتی غذائی ہدایات کے مقابلے میں وزن گھٹانے میں کوئی نمایاں برتری ثابت نہیں کرسکا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایک سال کے دوران اس طرزِ غذا سے جسمانی وزن میں اتنی کمی دیکھنے میں نہیں آئی جو طبی اعتبار سے نمایاں سمجھی جائے۔
یہاں تک کہ پانچ فیصد وزن کم کرنے کے ہدف کے حوالے سے بھی یہ طریقہ عام خوراک جاری رکھنے کے برابر ہی پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار افراد میں یہ طریقہ روایتی کیلوریز کم کرنے والی غذاؤں کے مقابلے میں بہت کم فرق ڈالتا ہے۔
اس عالمی جائزے میں 2016 سے 2024 کے دوران شائع ہونے والی 22 کنٹرول شدہ تحقیقات شامل کی گئیں جن میں تقریباً دو ہزار افراد نے حصہ لیا جب کہ یہ مطالعات شمالی امریکا، آسٹریلیا، چین، یورپی ممالک اور برازیل میں کیے گئے۔
ان تحقیقات میں روزانہ محدود وقت میں کھانا کھانا، ہفتے میں ایک یا دو دن مکمل پرہیز، ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا اور اس کی تبدیل شدہ صورتیں شامل تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ متعدد مطالعات کے نتائج غیر واضح رہے اور بیشتر میں شرکا کی اطمینان، ذیابیطس کی کیفیت یا دیگر صحت کے مسائل پر تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ چند ہی تحقیقات میں ممکنہ منفی اثرات جیسے تھکن، سر درد یا متلی کا ذکر کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ابتدائی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھوکے رہنے کی حالت میں جسم توانائی کے لیے چربی استعمال کرنے لگتا ہے مگر اس کے طویل مدتی فوائد کے بارے میں ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
مزید یہ کہ مختلف افراد میں اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں اور کچھ طبقات میں غذائی کمی کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس موضوع پر مزید جامع اور طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ واضح ہوسکے کہ آیا یہ طریقہ واقعی موٹاپے اور میٹابولزم سے متعلق مسائل میں مددگار ہے یا نہیں۔ فی الحال دستیاب شواہد اسے وزن گھٹانے کا مؤثر اور یقینی حل قرار دینے کے لیے ناکافی ہیں۔
