کیاسائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے پائے گی؟

کیاسائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے پائے گی؟


کیاسائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے پائے گی؟

ٹائیونکس ٹیکنالوجی کیاہےَ؟/ فوٹو

کیاسائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے پائے گی؟۔مردہ جسم کو دوبارہ زندہ کرنے کی ٹیکنالوجی کیا ہے؟۔ جرمن کمپنی بائے ٹومارو نے دنیا کا سب سے بڑا کاروبار شروع رکھاہے۔

ایک وقت تھا جب موت کو حتمی انجام سمجھاجاتاتھا۔ مگر اب سائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا کامل ایمان ہے کہ موت کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی ملے گی۔ مگراس پر صرف اللہ رب العزت ہی قادر ہے۔

سائنس صدیوں سے ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہی کوششوں میں جاپانی کمپنی نے ٹائیونکس کا کاروبار شروع کررکھاہے۔

 کمپنی نے دعویٰ کررکھاہے کہ وہ مردہ جسموں کواس وقت تک سنبھال کر رکھے گی جب تک ایسی ٹیکنالوجی نہ آجائے تومرے ہوئے انسان کو دوبارہ زندگی دے سکے۔

 

مردہ جسموں کو محفوظ رکھنے کےلئے ٹائیونکس کاعمل دراصل ہے کیا؟

اس سلسلے میں جو عمل اختیارکیاجاتاہے اسے ٹائیونکس کہتے ہیں۔ ایسے انسان جومرنے کے بعد اپنے جسم کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ان پریہ عمل کیاجاسکے گا۔

اس عمل میں جسم سے خون اورقدرتی مائع جات کومکمل طورپرنکال دیاجاتاہے۔اندورنی اعضا کو فریزنگ کے عمل گزارا جاتاہے۔

بعدازاں جسم میں ایک خاص قسم کا کیمیکل منتقل کیاجاتاہے۔ تاکہ جسم کو برف میں تبدیل ہونے سے بچایاجاسکے۔

لاش کو انتہائی کم درجہ حرارت والے نائیٹروجن گیس سے بھرے ہوئے اسٹیل کنٹینر میں رکھا جاتاہے۔  جس کا درجہ حرارت منفی 320ڈگری فارن ہائیٹ ہوتاہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جسم کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھاجاسکتاہے۔
کیاسائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے پائے گی؟

سائنسدان کیا کہتے ہیں؟

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر مستقبل میں دماغ کی یادداشت،نیورون اوربائیولوجیکل سیلز کو دوبارہ متحرک کرنے والی کوئی ٹیکنالوجی آجائے تویہ فریز شدہ انسان دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں۔
کیاسائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے پائے گی؟

اخراجات کی تفصیل

اگرکوئی شخص یہ چاہتاہے کہ اس کے جسم کو محفوظ رکھا جائے۔ تو اس کے خاندان کو 2 لاکھ امریکی ڈالرز ادا کرنے ہونگے۔ لاش کی دیکھ بھال پر سالانہ اخرجات اس کے علاوہ ادا کرنے ہونگے۔

واضح رہے کہ یہ سب کچھ  محض ایک سانسی خیال اور تصور ہے۔  کیا انسان ٹیکنالوجی کے ذریعے موت کو شکست دے سکے گا؟۔یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں