کلاڈ چیٹ نظام سے ڈیٹا چوری کا الزام؛ ڈیپ سیک سمیت تین کمپنیوں کے نام سامنے آگئے

کلاڈ چیٹ نظام سے ڈیٹا چوری کا الزام؛ ڈیپ سیک سمیت تین کمپنیوں کے نام سامنے آگئے

کلاڈ چیٹ نظام سے ڈیٹا چوری کا الزام؛ ڈیپ سیک سمیت تین کمپنیوں کے نام سامنے آگئے

گزشتہ برس اوپن اے آئی نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے تھے۔

مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی انتھروپک نے دعویٰ کیا ہے کہ تین غیر ملکی کمپنیوں نے اس کے چیٹ نظام ’’کلاڈ‘‘ سے بڑے پیمانے پر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق ڈیپ سیک، مون شاٹ اے آئی اور منی میکس نے مبینہ طور پر ایسے طریقے اپنائے جن کا مقصد کلاڈ کی صلاحیتوں کو اپنے نظام بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔

کمپنی کے بیان میں کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ’’نچوڑ‘‘ کہلانے والا طریقہ عام طور پر اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کمزور نظام زیادہ جدید نظام کے جوابات سے سیکھتے ہیں۔

تاہم انتھروپک کے مطابق اس طریقے کو غلط انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ حفاظتی اقدامات اور دانشورانہ ملکیت کے حقوق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انتھروپک کا کہنا ہے کہ ان تینوں کمپنیوں نے تقریباً چوبیس ہزار جعلی کھاتوں کے ذریعے کلاڈ کے ساتھ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد مرتبہ رابطہ کیا۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ سرگرمیاں اس مقصد کے تحت کی گئیں کہ جدید مصنوعی ذہانت نظام تیار کرنے کے لیے کلاڈ کو بطور شارٹ کٹ استعمال کیا جائے۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ اس نے ان کارروائیوں کو متعلقہ اداروں سے جوڑنے کے لیے انٹرنیٹ ایڈریس، فنی معلومات اور دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لیا۔ انتھروپک کے مطابق دیگر مصنوعی ذہانت اداروں نے بھی اسی نوعیت کے مشاہدات کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اوپن اے آئی نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے تھے اور بعض کھاتوں کو مبینہ غلط استعمال کے شبہے میں بند کردیا تھا۔

انتھروپک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ اس طرح کی مبینہ سرگرمیوں کا سراغ لگانا اور انہیں روکنا آسان ہوسکے۔

تاہم دوسری جانب کمپنی کو قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے کیونکہ موسیقی شائع کرنے والی چند کمپنیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کلاڈ کی تربیت کے لیے گانوں کی غیر مجاز نقول استعمال کی گئیں۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں