کراچی، ڈاؤ یونیورسٹی میں متعدی بیماریوں کی جدید لیبارٹری کا افتتاح

کراچی، ڈاؤ یونیورسٹی میں متعدی بیماریوں کی جدید لیبارٹری کا افتتاح

کراچی، ڈاؤ یونیورسٹی میں متعدی بیماریوں کی جدید لیبارٹری کا افتتاح

ایک ہزار ملین روپے کی لاگت سے تیار کی گئی یہ جدید لیب سندھ حکومت کی تاریخی کاوش ہے

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں امرجنگ انفیکشیئس ڈیزیز لیبارٹری کا افتتاح صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کیا، جسے صحت کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ ایک ہزار ملین روپے کی لاگت سے تیار کی گئی یہ جدید لیب سندھ حکومت کی تاریخی کاوش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے لیبارٹری کے قیام کے لیے آٹھ سو ملین روپے فراہم کیے ہیں اور اب اس کے سالانہ اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔ لیب کے سالانہ اخراجات کا تخمینہ تقریباً تین سو ملین روپے ہے۔

مزید پڑھیں: ذوزیرِاعظم کی جعلی ادویات کے خلاف سخت اقدامات اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرنے کی ہدایت

انہوں نے شکوہ کیا کہ صحت کے شعبے میں دیگر صوبوں سے آگے ہونے کے باوجود سندھ حکومت کو سراہا نہیں جاتا اور نہ ہی صحت کے لیے دی جانے والی گرانٹس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ سندھ انفیکشئس ڈیزیز اسپتال میں نہ صرف سندھ بلکہ دیگر صوبوں سے آنے والے مریضوں کو بھی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پروفیسر نازلی حسین کے مطابق اسپتال میں مریضوں کو حکومت سندھ کی جانب سے تمام سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیپا کے مقام پر قائم یہ جدید تحقیقی لیبارٹری تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں کی بروقت شناخت، تحقیق اور ان سے نمٹنے کے اقدامات تجویز کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ جدید سہولت کے ذریعے وبائی امراض سے مؤثر انداز میں نمٹنا ممکن ہوگا۔

لیبارٹری میں ڈینگی، کانگو، ایچ آئی وی اور ٹی بی سمیت مختلف متعدی امراض کی تشخیص مزید تیز اور مؤثر بنائی جائے گی جبکہ مقامی سطح پر جدید ٹیسٹنگ کی دستیابی سے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

طبی اور لیبارٹری عملے کو جدید بایو سیفٹی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ عالمی معیار کے مطابق تحقیق اور تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں