چین نے خفیہ ہتھیار مدر شپ تیار کرلیا جو 100 ڈرونز بیک وقت لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین اگلے ماہ اپنا پہلا ڈرون ’’مدرشپ‘‘ لانچ کرے گا۔ جیوتیاں ایس ایس- یو اے وی نامی یہ بغیر پائلٹ کا دیوہیکل طیارہ ہے جو فضائی جنگ کا رخ بدل کر رکھ دے گا۔
اس کی 100 سے زائد چھوٹے ڈرونز یا میزائل فائر کرنے کی صلاحیت اسے سیچوریشن اٹیکس اور تقسیم شدہ نگرانی کے لیے ’’مدرشپ‘‘ بناتی ہے۔۔
یہ صرف ایک طیارہ نہیں بلکہ سو ڈرونز کا جمگھٹا ہوگا جو فائر ہوکر دشمن کے نظاموں کو ملیا میٹ کردیں گے۔
یہ 100 سے زائد ایف پی وی ڈرونز لے جائے گا جو اے آئی کے ذریعے مربوط حملوں کے لیے استعمال ہوں گے۔
یہ مدرشپ بحیرہ جنوبی چین، تائیوان آبنائے یا دیگر حساس خطوں میں چین کی فوجی موجودگی کو مضبوط ترین بنائے گا۔ خاص طور پر اس خطے میں امریکی بحری بیڑوں کے لئے ایک چیلنج ہوگا۔
اس کا ٹیک آف وزن 15 ٹن اور پروں کا پھیلاؤ 25 میٹر ہے۔ اس کی پرواز کی بلندی 15 کلومیٹر اور رینج 7 ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔
جیوتیاں ایس ایس- یو اے وی، کو ’’ہائی اسکائی‘‘ یا ’’نائن ہیونز‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ہائی الٹیٹیوڈ غیر انسانی فضائی گاڑی ہے جسے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنہ نے فرسٹ ایئر کرافٹ انسٹی ٹیوٹ، شینزی یو مینڈ ایکوئپمنٹ ٹیکنالوجی کمپنی اور ہائیگ کمیونیکیشنز کے تعاون سے تیار کیا ہے۔
یہ جاسوسی، نگرانی، ہدف کے حصول اور حملہ آور مشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی پہلی پرواز جون 2025 میں شیڈول ہے۔ اس کی پے لوڈ کی صلاحیت 6 ٹن تک ہے جس میں نگرانی کے سینسرز، ہتھیار اور چھوٹے ڈرونز شامل ہیں۔
یہ اسٹیلتھ فیچرز کا حامل ہے اور اس کا نظام اے آئی کنٹرول سے منسلک ہے۔ یہ جاسوسی، نگرانی، الیکٹرانک وارفیئر اور کارگو ٹرانسپورٹ کے کام بھی آئے گا جب کہ یہ غیر انسانی طیارہ امریکا کے ایم کیو نائن سسٹم کے لئے چیلنج بتایا جارہا ہے۔
جیوتیاں مدرشپ کی مہلکیت اس کی سوارم ٹیکنالوجی، بلند پرواز، طویل رینج اور ملٹی رول صلاحیتوں سے پیدا ہوتی ہے جو اسے خاص طور پر متنازع علاقوں میں ایک طاقتور ہتھیار بناتی ہے۔
