چین پھر بازی لے گیا، خلا سے شمسی توانائی حاصل کرنے کا فیصلہ

چین پھر بازی لے گیا، خلا سے شمسی توانائی حاصل کرنے کا فیصلہ

چین نے خلا میں قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 1 کلومیٹر چوڑی شمسی صف کی تعمیر کی جائے گی۔

یہ شمسی صف زمین سے تقریباً 36,000 کلومیٹر بلند جیو اسٹیٹشنری مدار میں نصب کی جائے گی، جہاں سے یہ توانائی مستقل بنیادوں پر حاصل کرے گی، کیونکہ خلا میں کسی بھی موسمی اثرات اور دن رات کے چکر کا سامنا نہیں ہوتا۔

ٹیکنالوجی کی ایک معروف ویب سائٹ کے مطابق چین کے اس منصوبے کا مقصد خلا میں توانائی جمع کرنا اور اسے مائیکروویوز کی شکل میں زمین تک منتقل کرنا ہے، جس سے زمین پر موجود روایتی شمسی توانائی کے نظاموں سے کہیں زیادہ توانائی حاصل کی جائے گی۔

 توقع کی جارہی ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے حاصل ہونے والی توانائی زمین سے حاصل ہونے والی تیل کی مقدار کے برابر ہوگی جو سال بھر میں نکالی جا سکتی ہے۔

چین کی یہ خلا میں شمسی توانائی پیدا کرنے کی کوشش “اسپیس بیسڈ سولر پاور” (Space-Based Solar Power – SBSP) کے تصور کی بنیاد پر ہے، جس میں خلا میں شمسی توانائی سیٹلائٹس (Solar Power Satellites – SPS) کے ذریعے جمع کی جائے گی اور اسے زمین پر بھیجا جائے گا۔

اس منصوبے کو توانائی کے شعبے کے “مین ہیٹن پروجیکٹ” کے مترادف قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ مین ہیٹن پروجیکٹ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹمی بموں کی تیاری کے لیے تھا۔

چینی سائنسدان لانگ لی ہاؤ جو اس منصوبے کے اہم دماغوں میں شامل ہیں، نے اس منصوبے کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پروجیکٹ اتنا اہم ہے جتنا تھری گورجز ڈیم کو 36,000 کلومیٹر خلا میں منتقل کرنا۔

یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں 2050 تک بجلی کی ضروریات دوگنا ہونے کی توقع ہے۔ اسپیس سولر جیسے کمپنیاں خلا میں توانائی کی فراہمی کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر رہی ہیں، اور ایک دہائی سے بھی کم وقت میں یہ ٹیکنالوجی خلا میں مکمل طور پر کام کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

برطانیہ کی اسپیس ایجنسی کے سی ای او ڈاکٹر پال بیٹ نے کہا کہ یہ کامیاب تجربہ خلا میں شمسی توانائی کے حصول کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو دنیا بھر میں توانائی کے وسائل کو خلا سے حاصل کرنے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں