پاکستان میں کینسر کے شکار صرف 30 فیصد بچے زندہ بچ پاتے ہیں، ماہرین کی وارننگ

پاکستان میں کینسر کے شکار صرف 30 فیصد بچے زندہ بچ پاتے ہیں، ماہرین کی وارننگ

کراچی میں انڈس اسپتال کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی سیشن میں ماہرینِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے مگر تاخیر سے تشخیص، محدود طبی سہولیات اور مالی مشکلات کے باعث 30 فیصد سے بھی کم بچے صحت یاب ہو پاتے ہیں۔

’’ہیلتھ وائز‘‘ سیشن کے دوران ماہرین نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچے اور نو عمر افراد کینسر کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 80 فیصد کیسز کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں سامنے آتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کے کینسر سے صحت یابی کی شرح 80 سے 85 فیصد تک ہے جب کہ ترقی پذیر ممالک میں دیر سے تشخیص اور خصوصی علاج کی کمی کے باعث نتائج خاصے کمزور رہتے ہیں۔

کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی آنکولوجی ڈاکٹر نعیم جبار کا کہنا تھا کہ بچوں میں ہونے والے بیشتر کینسر بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے قابلِ علاج ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر کے مطابق بالغ افراد کے برعکس بچوں کے کینسر کی واضح وجوہات عموماً سامنے نہیں آتیں اور ان کا طرزِ زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ اگر بروقت اور درست علاج شروع کردیا جائے تو صحت یابی کی شرح 85 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کم شرحِ بقا کی بڑی وجوہات میں علامات کو بروقت نہ پہچاننا، معاون طبی سہولیات کی کمی، ماہر ڈاکٹروں کی قلت، خصوصی مراکز تک محدود رسائی اور علاج ادھورا چھوڑ دینا شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچوں میں عام پائے جانے والے کینسر میں لیوکیمیا، لیمفوما، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومرز، ہڈیوں کے ٹیومرز، سافٹ ٹشو سارکوما، نیوروبلاسٹوما، ولمز ٹیومر اور ریٹینوبلاسٹوما شامل ہیں۔

ان امراض کے علاج کے لیے کیموتھراپی، سرجری اور ریڈیوتھراپی جیسے مؤثر طریقے دستیاب ہیں بشرطیکہ علاج بروقت شروع کیا جائے۔

کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک آنکولوجی اور میڈیکل سروسز ڈائریکٹوریٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شمائل اشرف نے کہا کہ مریضوں کا تاخیر سے اسپتال پہنچنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ان کے مطابق کراچی میں قائم پیڈیاٹرک ہیماٹولوجی آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ میں ہر سال تقریباً ایک ہزار نئے کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ 2014 سے اب تک 16 ہزار سے زائد بچوں کا علاج کیا جاچکا ہے جب کہ کسی بھی وقت تقریباً 1300 بچے زیرِ علاج ہوتے ہیں۔

کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک آنکولوجی ڈاکٹر محمد رفی رضا نے اس موقع پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کا کینسر متعدی مرض نہیں اور نہ ہی یہ چھونے سے پھیلتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کینسر کا مطلب موت نہیں، بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے صحت یابی کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی تشخیص ہی جان بچانے کا مؤثر ذریعہ ہے، لہٰذا والدین، اساتذہ، طبی عملے اور میڈیا کو چاہیے کہ آگاہی پھیلائیں تاکہ ہر بچے کو زندگی کا برابر موقع مل سکے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں