اسلام آباد: پاکستان میں ٹیلی کام ڈیٹا کے استعمال میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ سال 2024-25 میں 27,897 پیٹا بائٹس تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران ملک میں ٹیلی کام ڈیٹا کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے بتایا کہ سال 2024-25 میں ڈیٹا کے استعمال کی مقدار 27,897 پیٹا بائٹس تک جاپہنچی جو 2022-23 کے مقابلے میں 37.84 فیصد زیادہ ہے جب کہ 2022-23 میں ڈیٹا کا استعمال 20,235 پیٹا بائٹس رہا تھا۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیاد پر بھی 10.96 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ 2023-24 میں ڈیٹا کا استعمال 25,141 پیٹا بائٹس تھا۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں اسٹریمنگ، آن لائن تعلیم، ای کامرس اور موبائل ایپلیکیشنز کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہے۔
براڈ بینڈ صارفین اور رسائی میں اضافہ
براڈ بینڈ سبسکرپشنز میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو 2022-23 میں 12 کروڑ 76 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں 15 کروڑ ہوگئیں۔ یہ تین سال میں 17.55 فیصد اور گزشتہ سال کی نسبت 8.47 فیصد اضافہ ہے۔
براڈ بینڈ پینیٹریشن (رسائی) میں بھی بہتری آئی ہے جو 53.6 فیصد سے بڑھ کر 60.8 فیصد ہوگئی، یعنی تین سالوں میں 13.43 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 6.67 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ملک بھر میں انٹرنیٹ کی وسیع تر دستیابی کی عکاسی کرتا ہے۔
صارفین میں اضافہ لیکن مارکیٹ سیر شدہ
ٹیلی کام صارفین کی مجموعی تعداد 2024-25 میں 20 کروڑ تک پہنچ گئی جو 2022-23 کے مقابلے میں 3.36 فیصد اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.51 فیصد اضافہ ہے۔
تاہم ٹیلی ڈینسٹی (فیصد آبادی جو موبائل فون استعمال کرتی ہے) 81.21 فیصد پر تقریباً مستحکم رہی جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ اب ایک بالغ اور سیر شدہ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
بڑھتی ہوئی کنیکٹیویٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک میں موبائل ٹاورز (سیل سائٹس) کی تعداد بھی بڑھ کر 57,888 ہوگئی ہے جو گزشتہ تین سالوں میں 8.03 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
ٹیلی کام ریونیو میں کمی
صارفین اور انفراسٹرکچر میں اضافے کے باوجود ٹیلی کام سیکٹر کی آمدنی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ 2023-24 میں 955 ارب روپے کے مقابلے میں 2024-25 میں آمدنی کم ہو کر 803 ارب روپے رہ گئی، یعنی 15.91 فیصد کمی۔ 2022-23 کے مقابلے میں بھی یہ کمی 1.71 فیصد ہے۔
البتہ قومی خزانے میں ٹیلی کام سیکٹر کا حصہ 2023-24 کے 195.1 ارب روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 271 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ یہ 2022-23 میں جمع کروائے گئے 341 ارب روپے سے کم ہے مگر پھر بھی بحالی کی علامت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر ایک طرف صارفین کے اعتبار سے ترقی کر رہا ہے اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر بھی بہتر ہو رہا ہے، تاہم آمدنی میں اتار چڑھاؤ، بدلتی مارکیٹ کی صورتحال اور صارفین کے رویوں میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
