ٹائیفائیڈ کا جراثیم بے قابو، ادویات بے اثر ہونے لگیں؛ ڈاکٹرز کا انتباہ
صدیوں سے انسانوں کو متاثر کرنے والا خطرناک مرض ٹائیفائیڈ ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
صدیوں سے انسانوں کو متاثر کرنے والا خطرناک مرض ٹائیفائیڈ ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بیماری کا سبب بننے والا جراثیم تیزی سے ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کررہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق ٹائیفائیڈ کا جراثیم اب ایسی نئی شکل اختیار کررہا ہے جس پر عام استعمال ہونے والی ادویات اثر نہیں کر رہیں۔
ٹائیفائیڈ کا علاج اب تک صرف مخصوص جراثیم کش ادویات سے ممکن تھا مگر گزشتہ تین دہائیوں میں اس جراثیم نے ان ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرلی ہے اور یہ اقسام تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
ماہرین نے نیپال، بنگلادیش، پاکستان اور بھارت میں 2014 سے 2019 کے درمیان حاصل کیے گئے ہزاروں نمونوں کا جائزہ لیا جس میں معلوم ہوا کہ ایسی اقسام میں واضح اضافہ ہورہا ہے جن پر متعدد ادویات بے اثر ہوچکی ہیں۔
یہ خطرناک اقسام نہ صرف پرانی ادویات بلکہ نئی ادویات کے خلاف بھی مزاحمت دکھارہی ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ خطرناک جراثیم اب جنوبی ایشیا سے نکل کر دنیا کے دیگر خطوں تک پہنچ چکا ہے جن میں افریقا، جنوب مشرقی ایشیا، برطانیہ، امریکا اور کینیڈا بھی شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جراثیم کے تیزی سے پھیلاؤ اور ادویات کے خلاف مزاحمت میں اضافہ عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
پاکستان میں پہلی بار 2016 میں اس بیماری کی انتہائی خطرناک اور مزاحمت کرنے والی قسم کی نشاندہی ہوئی تھی جو چند ہی برسوں میں ملک میں نمایاں شکل اختیار کرگئی۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اب صرف ایک دوا باقی رہ گئی ہے جو اس مرض کے علاج میں استعمال ہورہی ہے تاہم اس کے خلاف بھی مزاحمت کے آثار سامنے آرہے ہیں۔
اگر ٹائیفائیڈ کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو تقریباً پانچ میں سے ایک مریض کی جان جاسکتی ہے۔ عالمی سطح پر 2024 میں اس مرض کے ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جو اس کے پھیلاؤ کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرناک صورتحال سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکوں کا استعمال بڑھانا اور نئی ادویات کی تیاری پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کو مستقبل میں ایک بڑے طبی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
