دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت شعبے کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے کہا ہے کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ میں مصنوعی ذہانت زیادہ تر پیشہ ورانہ کمپیوٹر پر مبنی کام خود انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت شعبے کے سربراہ نے پیش گوئی کی کہ حساب کتاب، قانونی خدمات، تشہیر اور منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں انسانی سطح کی کارکردگی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ان کے مطابق وہ ملازمتیں جو زیادہ تر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر انجام دی جاتی ہیں، وہ مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں جب کہ ان خیالات کی بازگشت اس سے قبل بھی سنائی دے چکی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے محقق میٹ شومر اور سیم آلٹ مین بھی مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی کو روزگار کے لیے بڑا چیلنج قرار دے چکے ہیں۔
اسی طرح ڈیریو اموڈی نے خبردار کیا تھا کہ ابتدائی درجے کی نصف سفید پوش ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں جب کہ جم فیرلی کا کہنا تھا کہ امریکا میں دفتری نوکریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوسکتی ہے۔
عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران ایلون مسک نے بھی عندیہ دیا تھا کہ مکمل طور پر خودمختار مصنوعی ذہانت جلد سامنے آسکتی ہے۔
موجودہ اثرات محدود
تاہم زمینی حقائق اب تک ان پیش گوئیوں کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق وکلا، حساب دان اور معائنہ کار حضرات مصنوعی ذہانت کو صرف مخصوص کاموں جیسے دستاویزات کی جانچ اور معمول کے تجزیے تک محدود استعمال کررہے ہیں۔
پیداواری صلاحیت میں اضافہ معمولی قرار دیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
ایک غیر منافع بخش تحقیقی ادارے کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ بعض سافٹ ویئر تیار کرنے والوں کو مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے کام مکمل کرنے میں 20 فیصد زیادہ وقت لگا۔
معاشی فوائد زیادہ تر ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بڑے سرمایہ کاری ادارے کی تحقیق کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں بڑی ٹیک کمپنیوں کے منافع میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جب کہ وسیع حصص بازار میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
ملازمتوں میں کمی کے آثار
روزگار سے متعلق ایک مشاورتی ادارے کے مطابق 2025 میں تقریباً 55 ہزار ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے جڑی تبدیلیوں کے باعث ختم ہوئیں۔
مائیکروسافٹ نے گزشتہ سال 15 ہزار ملازمتیں کم کیں، اگرچہ کمپنی نے انہیں براہ راست مصنوعی ذہانت کا نتیجہ قرار نہیں دیا۔ کمپنی کے سربراہ ستیا نڈیلا نے ایک مراسلے میں کہا کہ بدلتے دور میں ادارے کے مشن کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
بازارِ حصص نے بھی ان پیش رفتوں پر شدید ردعمل دیا۔ حالیہ دنوں میں سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ خودکار نظام روایتی سافٹ ویئر خدمات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
یہ مندی اس وقت شدت اختیار کرگئی جب اینتھروپک اور اوپن اے آئی نے ایسے خودکار نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا جو وہ کام انجام دے سکتے ہیں جو اب تک سافٹ ویئر کمپنیوں کے ذریعے کیے جاتے تھے۔
مجموعی طور پر ماہرین کے بیانات ایک بڑے تبدیلی کے امکان کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم عملی سطح پر اس کے اثرات ابھی محدود اور تدریجی دکھائی دیتے ہیں۔
