پے پال ڈیٹا لیک: لاکھوں صارفین کی حساس معلومات متاثر ہونے کا انکشاف
2025 کے دوران تقریباً چھ ماہ تک صارفین کا حساس ڈیٹا غیر محفوظ رہا
امریکی کمپنی پے پال نے اپنے ورکنگ کیپٹل (پی پی ڈبلیو سی) پلیٹ فارم میں ہونے والے ایک بڑے سیکیورٹی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 کے دوران تقریباً چھ ماہ تک صارفین کا حساس ڈیٹا غیر محفوظ رہا۔
کمپنی کے مطابق یہ مسئلہ سافٹ ویئر میں موجود ایک تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا جس نے ڈیٹا سیکیورٹی کو متاثر کیا۔
رپورٹس کے مطابق اس سیکیورٹی لیک سے ان صارفین کی ذاتی معلومات متاثر ہوئیں جنہوں نے پے پال ورکنگ کیپٹل قرض کے لیے درخواست دی تھی۔
متاثرہ ڈیٹا میں سوشل سیکیورٹی نمبرز، تاریخ پیدائش اور دیگر حساس ذاتی شناختی معلومات شامل تھیں، جو سائبر حملوں اور فراڈ کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پی پی ڈبلیو سی قرض پلیٹ فارم کے کوڈنگ میں ہونے والی غلطی کے باعث پیدا ہوا، جس کی نشاندہی اور اصلاح میں کافی وقت لگا۔
سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے کریڈٹ مانیٹرنگ سروسز استعمال کریں، مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں، پاس ورڈز باقاعدگی سے تبدیل کریں اور غیر معروف ذرائع سے آنے والے پیغامات سے محتاط رہیں۔
