قریب موجود مردہ ستارے کے گرد رینبو نما منظر نے سائنس دانوں کو حیران کردیا
یہ ستارہ تقریباً سات سو اکتیس نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔
فلکیات دانوں نے زمین سے نسبتاً قریب واقع ایک مردہ ستارے کے گرد ایک ایسا روشن اور رنگا رنگ منظر دریافت کیا ہے جس نے سائنسی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
یہ ستارہ تقریباً سات سو اکتیس نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور اس کے گرد بننے والی چمکتی ہوئی گیسوں کی قوس ایک معمہ بن چکی ہے۔
یہ ستارہ دراصل ایک سفید بونا ہے یعنی ایسا ستارہ جو سورج جیسے ستارے کی زندگی کے اختتام پر باقی رہ جاتا ہے۔
عام حالات میں ایسے ستارے خاموش سمجھے جاتے ہیں اور ان کے گرد اس قسم کی سرگرمی کی توقع نہیں کی جاتی۔ مگر اس ستارے کے گرد پائی جانے والی روشن گیسوں کی قوس نے ماہرین کے اندازے غلط ثابت کردیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سفید بونے ستارے اس وقت وجود میں آتے ہیں جب ستارہ اپنا ایندھن ختم کردیتا ہے اور اس کے بیرونی حصے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ حجم میں یہ زمین جتنا ہوتا ہے لیکن وزن میں سورج سے بھی زیادہ بھاری ہوسکتا ہے۔
عام طور پر ایسے ستارے کسی دوسرے ستارے کے ساتھ جوڑے کی صورت میں پائے جاتے ہیں اور قریبی ستارے سے مادہ کھینچنے لگتے ہیں جس سے بعض اوقات شدید دھماکے بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔
تاہم زیرِ بحث ستارے کے معاملے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کے گرد نہ تو مادے کی گردش کرنے والی تہہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسا واضح عمل دکھائی دیتا ہے جو اتنی طویل مدت تک گیسوں کا اخراج جاری رکھ سکے۔
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ گیسوں کا بہاؤ کم از کم ایک ہزار برس سے جاری ہے جو کسی اچانک دھماکے کے بجائے مسلسل عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس ستارے کا طاقتور مقناطیسی میدان اس معمے کی کلید ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ قریبی ساتھی ستارے سے آنے والا مادہ گردش کرنے کے بجائے براہِ راست مقناطیسی خطوط کے ذریعے سفید بونے پر گرتا ہو جس کے نتیجے میں گیسوں کا مسلسل اخراج ممکن ہورہا ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت ستاروں کے بارے میں موجود روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ انتہائی حالات میں مادہ کس طرح حرکت کرتا اور ردِعمل دیتا ہے، اس بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔
یہ انکشاف مستقبل کی فلکیاتی تحقیق کے لیے نئے سوالات اور امکانات پیدا کررہا ہے اور کائنات کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
