خواب حقیقت بن گیا: فرانس کی نوجوان خاتون خلا میں جائیں گی
یہ مشن اس عملے کی جگہ لے گا جسے ایک طبی مسئلے کے باعث طے شدہ وقت سے پہلے زمین پر واپس لانا پڑا تھا
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا چار نئے خلانوردوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ مشن اس عملے کی جگہ لے گا جسے ایک طبی مسئلے کے باعث طے شدہ وقت سے پہلے زمین پر واپس لانا پڑا تھا۔ اس مشن میں دو امریکی خلانورد جیسیکا میئر اور جیک ہیتھوے شامل ہیں۔
علاوہ ازیں فرانس کی صوفی آدینو اور روس کے آندرے فیدیایف بھی اس عملے کا حصہ ہیں۔ روانگی سے قبل یہ تمام خلانورد فلوریڈا میں قائم کینیڈی خلائی مرکز میں قرنطینہ میں موجود رہے۔
اس سے قبل عملہ نمبر گیارہ کو جنوری میں ایک طبی ہنگامی صورتحال کے باعث ایک ماہ پہلے واپس بلانا پڑا تھا جو خلائی اسٹیشن کی تاریخ کا پہلا طبی انخلا تھا۔
اس کے بعد سے خلائی اسٹیشن پر صرف تین افراد پر مشتمل محدود عملہ موجود ہے۔ ناسا نے طبی مسئلے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
زمین سے تقریباً چار سو کلومیٹر بلندی پر گردش کرنے والا یہ خلائی اسٹیشن پچھلے پچیس برس سے مسلسل آباد ہے۔ تاہم اسے 2030 میں زمین کے مدار سے ہٹاکر بحرالکاہل کے ایک دور دراز حصے میں گرانے کا منصوبہ ہے۔
نیا عملہ آٹھ ماہ قیام کے دوران متعدد سائنسی تجربات کرے گا جن میں کم کششِ ثقل کے انسانی جسم پر اثرات کا جائزہ بھی شامل ہے جب کہ جیسیکا میئر اس مشن کی سربراہ ہوں گی اور صوفی آدینو خلا میں جانے والی فرانس کی دوسری خاتون بنیں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں ایک خاتون خلانورد کو خلا میں جاتے دیکھ کر انہوں نے بھی یہی خواب دیکھا تھا جو اب حقیقت بننے جارہا ہے۔
