بیماریوں سے لڑنے کی سائنس پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، مگر وبائیں تیزی سے اور وسیع پیمانے پر پھیل رہی ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگلی وبا “کب” نہیں بلکہ “کب تک” کا سوال ہے اور اگر عدم مساوات برقرار رہی تو اس کے اثرات مزید سنگین ہوں گے۔
کووِڈ-19 کی وجہ سے یکم جنوری 2020 سے 31 دسمبر 2021 کے درمیان اندازاً 1 کروڑ 82 لاکھ اضافی اموات واقع ہوئیں۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے نیشنل سیکیورٹی کونسل میں وبائی تیاری کا دفتر قائم کیا تھا، مگر ان کے جانشین ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ختم کر دیا، جس سے تیاریوں پر اثر پڑا۔
عالمی ادارہ صحت سمیت عالمی ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ نئی وبا ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت اپنی ہی حکمتِ عملی کے سامنے ناکام، جنوبی افریقا کی شاندار کارکردگی
گلوبل کونسل آن اِن اِکوَالٹی، ایڈز اینڈ پینڈیمکس کی رپورٹ (جی 20 وزرائے صحت اجلاس، جوہانسبرگ کے موقع پر) کے مطابق عدم مساوات اور وبائیں ایک شیطانی چکر بناتی ہیں: غربت اور سماجی محرومیاں وبا کے امکانات اور اثرات بڑھاتی ہیں، جبکہ وبائیں خود عدم مساوات میں اضافہ کرتی ہیں۔
کووِڈ-19 میں کم اجرت والے فرنٹ لائن ورکرز زیادہ متاثر ہوئے کیونکہ وہ گھروں سے کام نہیں کر سکتے تھے۔ بیماری کی صورت میں انہیں اپنی محدود بچت خرچ کرنا پڑی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وباؤں سے نمٹنا صرف طبی نہیں بلکہ سماجی و معاشی حکمتِ عملی بھی مانگتا ہے۔
بھیڑ بھاڑ والے گھر، غیر محفوظ ملازمتیں، کمزور غذائیت اور بنیادی صحت کی خراب حالتیں وبا کے پھیلاؤ کو تیز کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق صحت کا نظام رکھنے والے ممالک نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
ماہرین کے مطابق ویکسین تک غیر مساوی رسائی نے بھی خطرات بڑھائے۔ ترقی یافتہ معیشتوں کی “پہلے ہم” پالیسی نے نہ صرف اخلاقی سوالات اٹھائے بلکہ وائرس کے تغیرات کا خطرہ بھی بڑھایا۔
اب جی 20 کی ایک حالیہ پیش رفت کے تحت ہر خطے میں ادویہ سازی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی منتقلی کی حمایت کی جا رہی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ کافی نہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ وبا کے اعلان کے ساتھ ہی دانشورانہ ملکیت (آئی پی) میں خودکار رعایت ہونی چاہیے تاکہ اہل کمپنیاں مناسب رائلٹی کے ساتھ ضروری ادویات اور ویکسین بنا سکیں۔
کووِڈ کے دوران بعض افریقی ممالک میں تیار ہونے والی ویکسین کی کھیپیں یورپ اور امریکا بھیجی گئیں جبکہ مقامی آبادی محروم رہی۔ اگر علم اور پیداواری حق مشترک نہ ہوں تو عالمی پیداواری صلاحیت بھی بے معنی رہتی ہے۔
مالی وسائل بھی کلیدی ہیں۔ امیر ممالک نے کووِڈ کے دوران اپنے جی ڈی پی کا تقریباً 8 فیصد خرچ کیا، جبکہ کم آمدنی والے ممالک صرف 2 فیصد خرچ کر سکے۔
اب ترقی پذیر ممالک تقریباً 31 کھرب ڈالر کے قرض کے بوجھ تلے ہیں، اور افریقا کے کئی ممالک اپنی ٹیکس آمدن کا 40 سے 50 فیصد قرض ادائیگی پر خرچ کرتے ہیں، بعض اوقات تعلیم اور صحت سے بھی زیادہ۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگلی وبا کے اعلان کے ساتھ ہی ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف جیسے اداروں کی جانب سے خودکار مالی معاونت (مثلاً اسپیشل ڈرائنگ رائٹس) جاری کی جائے، اور کم آمدنی والے ممالک کو قرض میں ریلیف دیا جائے۔
نتیجتاً، عدم مساوات اور وباؤں کے اس چکر کو توڑا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے وسائل اور سیاسی عزم درکار ہے۔ منافع پر انسانی جان کو ترجیح دینا ہی عالمی صحت میں حقیقی مساوات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
