طالب علم کی خودکشی، انڈونیشیا میں بچوں کی ذہنی صحت پر تشویش بڑھ گئی

طالب علم کی خودکشی، انڈونیشیا میں بچوں کی ذہنی صحت پر تشویش بڑھ گئی

طالب علم کی خودکشی، انڈونیشیا میں بچوں کی ذہنی صحت پر تشویش بڑھ گئی

ذہنی صحت کی اسکریننگ کے دوران 48 فیصد بچوں میں ذہنی مسائل کی علامات پائی گئیں

انڈونیشیا کے پرائمری اسکول کے طالب علم کی خودکشی نے بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت سے متعلق سنگین خدشات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔

صوبہ بنڈونگ میں 1 لاکھ 48 ہزار سے زائد طلبہ کی ذہنی صحت کی اسکریننگ کے دوران 48 فیصد بچوں میں ذہنی مسائل کی علامات پائی گئیں، جسے ماہرین نے تشویشناک قرار دیتے ہوئے پیشہ ورانہ مداخلت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یونیسیف انڈونیشیا کے مطابق نوعمر افراد تعلیمی دباؤ، سماجی توقعات اور ذہنی صحت کی سہولیات تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بدنامی (اسٹیگما) اور کمزور رپورٹنگ سسٹم کے باعث خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کے کئی واقعات سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں ہو پاتے۔

مزید پڑھیں: ایک رات کی ناقص نیند ذہنی صحت کو کیسے برباد کرسکتی ہے؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق عالمی سطح پر ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں تقریباً 80 فیصد اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔ خودکشی اب دنیا بھر میں نوعمروں کی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

2023 کے گلوبل اسکول بیسڈ اسٹوڈنٹ ہیلتھ سروے کے مطابق انڈونیشیا میں 8.7 فیصد طلبہ نے گزشتہ سال خودکشی پر سنجیدگی سے غور کیا جبکہ 10.4 فیصد نے کوشش کی۔ جاوا کے چار صوبوں میں کیے گئے ایک اور مطالعے میں ایک چوتھائی سے زائد طلبہ نے زندگی میں کسی نہ کسی وقت خودکشی کے خیالات کا اعتراف کیا۔

ماہرین کے مطابق بچپن میں جنسی، جسمانی یا جذباتی تشدد، گھریلو تنازعات، والدین کی ذہنی صحت کے مسائل، معاشی دباؤ اور اسکول میں بُلیئنگ جیسے عوامل خودکشی کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچپن میں جنسی زیادتی کا تعلق خودکشی کی منصوبہ بندی سے مضبوط پایا گیا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مضبوط خاندانی تعلقات، اسکول سے وابستگی، مثبت خودتصور اور جسمانی سرگرمی جیسے عوامل حفاظتی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکولوں میں اینٹی بُلیئنگ پروگرامز، اساتذہ کی تربیت اور باقاعدہ ذہنی صحت اسکریننگ سے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق بدنامی کم کرنے، دیہی اور کم آمدنی والے علاقوں میں خدمات بڑھانے اور میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات کے مطابق خودکشی سے متعلق خبروں میں سنسنی خیزی سے گریز اور معاون وسائل کی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں