سخت برفانی سطح کی طرف واپسی،انٹارکٹیکامیں غیرمتوقع برفباری

سخت برفانی سطح کی طرف واپسی،انٹارکٹیکامیں غیرمتوقع برفباری


سخت برفانی سطح کی طرف گامزن

سخت برفانی سطح کی طرف گامزن انٹارکٹیکا/فوٹو ناسا

سخت برفانی سطح کی طرف واپسی کی طرف گامزن انٹارکٹیکاسے متعلق نئی تحقیق سامانے آگئی۔

براعظم انٹارکٹیکا دوبارہ سے سخت برفانی سطح کی طرف گامزن ہوگیا۔ ماہرین اسے موسمی تبدیلیوں کے اثرات کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اورگلوبل وارمنگ عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔  ان تبدیلیوں کا ایک نمایاں اشارہ قطبی علاقوں میں برف کے تیزی سے پگھلنے کا عمل ہے۔

نئی تحقیق نے دلچسپ موڑپیدا کردیا

تاہم حالیہ تحقیق نے انٹرنیشنل ماحولیاتی سائنس کی دنیا میں ایک دلچسپ موڑ پیداکردیا ہے۔

تحقیق میں بتایاگیاکہ انٹارکٹیکا میں برفباری میں غیرمتوقع اضافہ ہواہے۔ جس کے سب براعظم کی دوبارہ عارضی بہتری کی طرف گامزن ہوچکاہے۔

سخت برفانی سطح پر واپسی

تونگ جی یونیورسٹی  شنگھائی کے محققین انٹارکٹیکاکی برفانی پرتوں تحقیق کررہے ہیں۔ یہ تحقیق 2 دہائیوں سے جاری ہے ۔ جس میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا کی مددلی جارہی ہے۔

تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے مگرانٹارکٹیکامیں برفباری بھی بڑھی ہے۔

برف کی مقدارمیں غیر متوقع اضافہ براعظم کو پھر سخت برفانی سطح میں بدل رہاہے۔

ماہرین کے مطابق براعظم کی سخت برفانی سطح پر واپسی اطمینان بخش امر ہے ۔

سخت برفانی سطح پر واپسی

 

کیا یہ رجحان عالمی حدت کی کمی کی علامت ہے؟

دریں اثنا ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ رجحان کسی معجزاتی بہتری کی علامت نہیں۔

مزید یہ کہ گزشتہ 20 سال میں مجموعی رجحان برف کے نقصان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ برفباری میں اضافہ دراصل غیرمعمولی بارشوں اور ہوا کی وجہ سے ہے۔

انٹارکٹیکا کے درجہ حرارت تاریخی طور پر زیادہ تر مستحکم رہے ہیں۔

تاہم اب وہاں بھی واضح تبدیلیاں محسوس کی جا رہی ہیں۔

نتیجہ

براعظم میں عارضی بہتری کوعالمی درجہ حرارت میں کمی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

گلوبل وارمنگ کی شدت میں مجموعی اضافہ اب بھی جاری ہے۔ دنیا کو طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں