رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہم سب پر سایہ فگن ہے جس میں رکھے جانے والے روزے صرف روح کی تطہیر کا سبب ہی نہیں بنتے بلکہ جسم کے کئی مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہیں طبی ماہرین کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی جاچکی ہے کہ روزہ مذہبی عبادت کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد بھی پہنچاتا ہے۔
لوگوں کی بڑی تعداد اکثر اس خوف کے پیش نظر روزہ نہیں رکھتے کہ روزہ کی حالت میں کہیں ان کی بیماری میں اضافہ، پیچیدگی یا مزید کمزوری پید انہ ہوجائے تاہم ایسا ہرگز نہیں۔ جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ روزہ دار کے جسم میں دوسرے افراد کی نسبت قوت مدافعت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور پھر روزہ کی حالت میں اندرونی اعضاء پر کام کا بوجھ ہلکا ہونے کے باعث انہیں آرام مل جاتا ہے اور بعد ازاں یہ اعضاء تازہ دم اور بہتر کارکردگی کے حامل ہوجاتے ہیں۔
روزہ کے دل پر اثرات
روزہ کی حالت میں ایک مخصوص وقت کچھ کھایا پیا نہیں جاتا جبکہ دوسری طرف روزمرہ کے امور کی انجام دہی بھی جاری رہتی ہے ایسی صورت میں توانائی بھی صرف ہورہی ہوتی ہے۔ جب توانائی استعمال ہوگی تو خون میں کمی بھی آئے گی جس طرح مشینوں کے چلنے سے ایندھن بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ اثر دل کے لیے نہایت مفید اور اسے آرام پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔
درد سے نجات
اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیات کے درمیان مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے دل کے ٹشو پر دبائو کم ہوجاتا ہے اور پٹھوں پر یہ کم دبائو دل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ روزے کے دوران یہ دبائو کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس صورت میں دل مکمل طور پر آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اُسے خون کو تمام جسم میں پہنچانے، اسے صاف کرنے اور پورے جسم سے واپس دل میں لانے کے لئے کم سے کم قوت صرف کرنی پڑتی ہے۔
اسٹریس میں کمی
آج کے دور میں ہر شخص کسی نہ کسی وجہ سے شدید دباؤ اور اسٹریس کا شکار ہے۔ اس ذہنی دباؤ کا علاج اور شفا یابی کا راز روزے میں موجود ہے۔ رمضان المبارک کے ایک ماہ کے مسلسل روزے بطورخاص دل کے پٹھوں پر دبائو کوکم کرکے انسان کو بے شمار فوائد پہنچاتے ہیں۔
روزے کا سب سے اہم اثر پورے جسم میں خون کے بہاؤ کے دوران دل سے صاف خون لے کر پورے جسم میں اس خون کو پہچانے والی شریانوں پر دیکھنے میں آتا ہے۔ شریانوں کا سکڑ جانا خون کے بہائو میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے اور شریانوں کے سکڑنے اور کمزور ہونے کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے کا پوری طرح تحلیل نہ ہوسکنا ہے۔
جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو افطار کے وقت تک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرات تحلیل ہوچکے ہوتے ہیں۔ اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاء کولیسٹرول وغیرہ جم نہیں پاتے اور یہ شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں۔
روزہ اور معدہ
روزہ کی حالت میں انسانی معدہ پر بھی دل کی طرح مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ روزہ کی وجہ سے معدہ سے نکلنے والی رطوبات متوازن ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ عام قسم کی بھوک سے معدہ کی تیزابیت میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر روزہ کی حالت میں معدہ سے نکلنے والی رطوبات کے متوازن ہونے سے معدہ میں تیزابیت جمع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ کے دوران معدہ کے اعصاب و رطوبات پیدا کرنے والے خلیے رمضان کے مہینے میں آرام کی حالت میں ہوتے ہیں اور ایک صحت مند معدہ افطار کے بعد زیادہ کامیابی سے ہضم کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے۔
روزہ کے آنتوں پر اثرات
روزہ آنتوں کو آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ آنتوں کی شریانوں کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے مدافعتی نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہے جیسے انتڑیوں کا جال۔ روزے کے دوران صحت مند رطوبت بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح روزہ دار ہضم کرنے والی نالیوں کی تمام بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
