رمضان کے روزے دل کے دورے کے خطرے میں کمی لاسکتے ہیں، ماہرین صحت
منظم انداز میں رکھا گیا روزہ جسمانی افعال کو متوازن رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھنا دل کے دورے اور بلند فشارِ خون سے جڑے کئی خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق منظم انداز میں رکھا گیا روزہ جسمانی افعال کو متوازن رکھنے، کولیسٹرول کی سطح بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر صحت بخش کھانے کی عادات میں کمی کے باعث موٹاپا، بلند کولیسٹرول اور فالج و امراضِ قلب کے دیگر اسباب میں بھی کمی آسکتی ہے۔
راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد عمر نے دل کے مریضوں اور ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزے کے دوران بھاری اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں سے پرہیز کریں۔
انہوں نے گائے کے گوشت، بناسپتی گھی، مارجرین، ہائیڈروجنیٹڈ آئلز، میدے سے بنی اشیاء اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کم استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے اس کے برعکس مچھلی، سبز پتوں والی سبزیوں، سلاد اور پھلوں پر مشتمل غذا اپنانے کا مشورہ دیا۔ صحت بخش چکنائی کے لیے زیتون کا تیل، کینولا آئل، بادام اور اخروٹ کو مفید قرار دیا گیا۔
ماہرین نے تلی ہوئی اور پراسیس شدہ اشیاء میں موجود ٹرانس فیٹس سے بھی اجتناب کرنے کی تاکید کی ہے۔ مزید برآں انہوں نے پراٹھوں کی جگہ سادہ روٹی یا براؤن آٹے کی روٹی استعمال کرنے اور بغیر بالائی والی دودھ اور دہی کو ترجیح دینے کی سفارش کی۔
ماہرین کی جانب سے دل کے امراض میں مبتلا افراد کو روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کرنے اور تجویز کردہ ادویات اور غذائی منصوبے پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین صحت کا مزید کہنا ہے کہ مناسب احتیاط اور متوازن غذا کے ساتھ رمضان کے روزے صحتِ قلب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
