دنیا بھر میں ایکس کی سروس معطل، صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا
گزشتہ ماہ بھی 13 اور 16 جنوری کو پلیٹ فارم کو عالمی سطح پر تکنیکی مسائل کا سامنا رہا تھا
ایلون مسک کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو آج دوپہر اچانک عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث متعدد ممالک میں صارفین پوسٹس دیکھنے اور پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہے۔
خرابی کے تقریباً دو گھنٹے بعد سروس بحال ہونا شروع ہوئی اور پلیٹ فارم دوبارہ معمول کے مطابق کام کرنے لگا۔ مانیٹرنگ ویب سائٹ کے مطابق مسئلے کی رپورٹس میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
پاکستان میں شکایات کا عروج شام 6:54 بجے دیکھا گیا جہاں 275 صارفین نے خرابی کی نشاندہی کی، جو بعد ازاں کم ہو کر ایک گھنٹے میں صرف 8 رہ گئیں۔
دریں اثنا انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نے سوشل نیٹ ورک پر بتایا کہ یہ “بین الاقوامی نوعیت کی بندش” معلوم ہوتی ہے اور اس کا تعلق کسی ملک میں انٹرنیٹ کی بندش یا حکومتی فلٹرنگ سے نہیں۔
خبر رساں ادارے کے صحافیوں نے بھی فرانس اور تھائی لینڈ سمیت مختلف ممالک میں پلیٹ فارم تک رسائی میں مشکلات کی تصدیق کی۔ سروس بحال ہونے تک کمپنی کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2022 میں سابقہ ٹوئٹر خرید کر اس کا نام تبدیل کیا اور ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا تھا۔ بعد ازاں اسے اپنی مصنوعی ذہانت کمپنی ایکس اے آئی کے ساتھ ضم کیا، جو “Grok” چیٹ بوٹ تیار کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایکس اے آئی کو بھی مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس میں ضم کرنے کی تیاری ہے، اور یہ مشترکہ ادارہ رواں سال گرمیوں میں عوامی حصص جاری کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی 13 اور 16 جنوری کو پلیٹ فارم کو عالمی سطح پر تکنیکی مسائل کا سامنا رہا تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض تکنیکی خرابی تھی یا ایکس کے سسٹمز کسی بڑے دباؤ کا شکار ہیں؟ صارفین اب بھی جواب کے منتظر ہیں۔
