درختوں کے پتوں پر ناسا کی تحقیق اور آتش فشاں/فوٹو
درختوں کے پتوں کی مدد سے آتش فشاں پھٹنے کی پیشگوئی ممکن ہے ؟۔ ناسا کے سائنسدانوں نے ایک اہم تحقیق دریافت کرلی ہے۔
ناساکے سائنسدانوں کے مطابق آتش فشاں پھٹنے سے پہلے درختوں کے پتوں میں خاص تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ تبدیلی خلا سے سیٹلائٹ کے ذریعے معلوم کی جا سکتی ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب زمین کے اندر موجود آتش فشانی میگما (پگھلی ہوئی چٹان) اوپر کی طرف بڑھتی ہے۔ توزمین سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہونے لگتی ہے۔
یہ گیس درختوں کے پتوں کو ان کی جڑوں میں جذب ہو کر مزید گہرا سرسبز بنا دیتی ہے۔
یہ علامت آتش فشانی سرگرمی کی ایک ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔ اسے خلا میں موجودسیٹلائٹس کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔
آتش فشانی خطرات سے دوچارعلاقوں کے لئے نئی تحقیق انتہائی اہم قرار
یہ دریافت خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جو آتش فشانی خطرات سے دوچار ہیں۔ جہاں زمین پر جا کر گیس ماپنے کا عمل مہنگا یا خطرناک ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے درختوں کی ہریالی کا جائزہ لینا ایک محفوظ اور سستا حل فراہم کرتا ہے۔
اس تحقیق میں استعمال ہونے والے سیٹلائٹس میں Landsat 8، Sentinel-2 اور Terra شامل ہیں۔
چنانچہ یہ سیٹلائٹس درختوں کے پتوں میں ہونے والی باریک تبدیلیوں کو بھی نوٹ کر سکتے ہیں۔
درختوں کے پتوں اورزمینی آتش فشانی کا گہراتعلق
اٹلی کے مشہورآتش فشاں ماؤنٹ ایٹناپرکی گئی تحقیق میں ثابت ہواکہ درختوں کے پتوں اورزمینی آتش فشانی کا گہراتعلق ہے۔
علاوہ ازیں سائنسدانوں نے مارچ 2025 میں پاناما اور کوسٹا ریکا میں فعال آتش فشانی علاقوں کا دورہ کیا۔
اس دورے میں انہوں نے درختوں کے نمونے اورگیس کی مقداراکٹھی کی تاکہ سیٹلائٹ ڈیٹا کی تصدیق کی جاسکے۔
تحقیق پیشگی وراننگ کا موثر نظام ثابت ہوسکتی ہے
اس طرح کی افادیت 2017 میں فلپائن کے مایون آتش فشاں کے دوران بھی دیکھی گئی تھی۔ جب کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی بروقت شناخت نے ہزاروں جانیں بچانے میں مدد دی۔
اگرچہ یہ طریقہ ہر جگہ کام نہیں کرتا۔ خاص طور پراونچے یا شور زدہ ماحولیاتی علاقوں میں بالکل بھی نہیں ۔
Melting a drone to get amazing shots of an active volcano lava pic.twitter.com/2ft0nwFopT
— UFO mania (@maniaUFO) May 15, 2025
لیکن یہ آتش فشاں پھٹنے کی پیشگی وارننگ کا ایک طاقتور اور نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ ارلی وارننگ سسٹم تاریخ بنی نوع انسان کی اب تک کی دریافت میں ایک بڑی دریافت ثابت ہوگا۔
