خلا سے آنے والے دمدار سیارے میں کیا واقعی کوئی راز چھپا تھا؟

خلا سے آنے والے دمدار سیارے میں کیا واقعی کوئی راز چھپا تھا؟

خلا سے آنے والے دمدار سیارے میں کیا واقعی کوئی راز چھپا تھا؟

یہ دمدار سیارہ زمین کے نسبتاً قریب سے گزرا تھا جس کی وجہ سے سائنس دانوں کو تفصیلی مشاہدے کا نادر موقع ملا۔

سائنس دانوں نے خلا سے آنے والے ایک منفرد دمدار سیارے میں غیر زمینی مخلوق کی ممکنہ موجودگی جانچنے کے لیے جدید ترین مشاہدہ کیا تاہم اس کوشش کے نتیجے میں کسی قسم کے مصنوعی یا غیر فطری سگنلز دریافت نہیں ہوسکے۔

اس مقصد کے لیے دنیا کی طاقتور ترین ریڈیو دوربینوں میں سے ایک کو استعمال کیا گیا جس کے ذریعے دسمبر 2025 میں کئی گھنٹوں تک اس دمدار سیارے کی نگرانی کی گئی۔

یہ دمدار سیارہ زمین کے نسبتاً قریب سے گزرا تھا جس کی وجہ سے سائنس دانوں کو تفصیلی مشاہدے کا نادر موقع ملا۔

تحقیقی ٹیم نے مختلف ریڈیو لہروں پر یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا اس دمدار سیارے سے کسی قسم کی مصنوعی ٹیکنالوجی کے سگنلز خارج ہورہے ہیں یا نہیں۔

مشاہدے کے دوران کئی سگنلز موصول ضرور ہوئے مگر تفصیلی تجزیے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تمام سگنلز زمین پر موجود انسانی نظاموں کی وجہ سے تھے، نہ کہ خلا سے آنے والے اس جسم کی جانب سے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ نتیجہ حیران کن نہیں تھا کیونکہ اس دمدار سیارے کی ساخت اور رویہ مکمل طور پر قدرتی دکھائی دیتا ہے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ جسم ہمارے شمسی نظام سے باہر سے آیا ہے، اس لیے اس کی جانچ کرنا سائنسی اعتبار سے نہایت اہم تھا۔

ماہرین نے واضح کیا کہ سائنسی تحقیق میں }}کچھ نہ ملنا{{ بھی ایک اہم نتیجہ ہوتا ہے۔ اس مشاہدے سے کم از کم یہ بات طے ہوگئی کہ یہ دمدار سیارہ کسی قسم کا غیر زمینی پیغام رساں نظام نہیں رکھتا۔

سائنس دانوں کے مطابق اگر اس موقع پر تحقیق نہ کی جاتی اور بعد میں کسی غیر معمولی حقیقت کا انکشاف ہوتا تو یہ ایک بڑی سائنسی کوتاہی سمجھی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس میں امکانات کو نظر انداز کرنے کے بجائے جانچنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی تحقیقات نہ صرف کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ مستقبل میں مزید جدید آلات کی تیاری کے لیے بھی نئی راہیں کھولتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں یہی جستجو اور سوال اٹھانا سائنس کی اصل روح ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں