خلائی تحقیق کو بڑا دھچکا، مریخ سے نمونے زمین پر لانے کا تاریخی مشن منسوخ

خلائی تحقیق کو بڑا دھچکا، مریخ سے نمونے زمین پر لانے کا تاریخی مشن منسوخ

خلائی تحقیق کو بڑا دھچکا، مریخ سے نمونے زمین پر لانے کا تاریخی مشن منسوخ

یہ مشن مریخ پر قدیم زندگی کے امکانات جانچنے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم سمجھا جارہا تھا۔

امریکی خلائی ادارے کا مریخ سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے زمین پر واپس لانے کا انتہائی اہم منصوبہ سرکاری سطح پر ختم کردیا گیا ہے۔

یہ مشن مریخ پر قدیم زندگی کے امکانات جانچنے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم سمجھا جارہا تھا تاہم امریکی قانون ساز ادارے کی جانب سے فنڈز میں بھاری کمی کے بعد اس منصوبے کو جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔

مریخ پر زندگی کے آثار کی تلاش کئی دہائیوں سے سائنس دانوں کے لیے ایک بڑا سوال رہی ہے۔ مریخ پر اتارے گئے جدید تحقیقاتی روبوٹس نے اس سیارے کے ماحول، زمین کی ساخت اور ماضی میں پانی کی موجودگی کے شواہد فراہم کیے جس سے یہ اشارے ملے کہ کسی دور میں وہاں زندگی کے لیے موزوں حالات موجود ہوسکتے تھے۔

مگر حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مریخی چٹانوں اور مٹی کا زمین پر تفصیلی تجزیہ ضروری سمجھا جا رہا تھا۔ اس مقصد کے لیے مریخ پر موجود ایک جدید روبوٹ نے 33 مختلف نمونے محفوظ کرلیے تھے جنہیں ایک پیچیدہ نظام کے تحت زمین پر لانا تھا۔

اس منصوبے میں مریخ پر نیا خلائی جہاز اتارنا، نمونوں کو راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجنا اور پھر وہاں سے زمین تک پہنچانا شامل تھا۔ یہ پورا عمل غیر معمولی حد تک مشکل اور تکنیکی اعتبار سے بے مثال تھا۔

اصل مسئلہ مالی وسائل بنے۔ منصوبے کی لاگت ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ گئی اور اربوں ڈالر تک جاپہنچی۔ اگرچہ لاگت کم کرنے کی کوششیں کی گئیں مگر پھر بھی اخراجات اور غیر یقینی صورتحال نے اس مشن کو خطرے میں ڈال دیا۔

حکومت کی جانب سے بجٹ کم کرنے کے دباؤ کے باعث یہ منصوبہ ختم کرنا آسان فیصلہ سمجھا گیا۔ اگرچہ مریخ سے متعلق تحقیق کے لیے محدود رقم مختص کی گئی ہے مگر اس سے نمونے واپس لانے کا خواب فی الحال پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔

مستقبل میں یہ امکان موجود ہے کہ نئی اور کم خرچ ٹیکنالوجی سامنے آئے یا مریخ کی سطح پر ہی نمونوں کا بہتر تجزیہ ممکن ہوجائے تاہم زمینی تجربہ گاہوں جیسی سہولتیں وہاں فراہم کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب کچھ ممالک مریخ سے نمونے لانے کے منصوبے بنارہے ہیں جس سے امکان ہے کہ مستقبل میں کوئی اور ملک یہ اعزاز حاصل کرلے۔

بہرحال مریخ پر محفوظ نمونے طویل عرصے تک محفوظ رہنے کی توقع ہے مگر اس مشن پر برسوں محنت کرنے والے سائنس دانوں کے لیے اس کی منسوخی یقیناً ایک بڑا صدمہ ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں