بیجنگ: تیز رفتار طرز زندگی کی وجہ سے تنہائی کا شکار افراد کی موت کے بارے میں بروقت پتہ نہیں چل پاتا، دنیا بھر میں ایسے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ سال شوبز کے دو ستاروں کی موت اس حال میں ہوئی کہ ان کی موت کے کئی ماہ بعد لوگوں کو ان کی موت کا پتہ چلا، یہ صورتحال امریکا، چین اور جاپان جیسے ممالک میں اور بھی زیادہ سنگین ہوچکی ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چین میں ایک نئی موبائل ایپ “Are You Dead?” متعارف کرائی گئی ہے، جس نے نوجوان افراد کے درمیان دھوم مچا دی ہے، یہ ایپ خاص طور پر اُن افراد کے لیے ہے جو اکیلے رہتے ہیں۔
صارفین کو ہر دو دن بعد ایپ میں موجود بڑے بٹن کو دبا کر اپنی زندگی کی تصدیق کرنی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: چینی کمپنیاں سال 2025 کے دوران انسان نما روبوٹ کی عالمی پیداوار میں سر فہرست
اگر کوئی شخص ایپ کے ذریعے خود کو تصدیق نہ کرے تو یہ خودکار طور پر نامزد ہنگامی رابطہ کو اطلاع بھیج دیتی ہے کہ وہ خطرے میں ہو سکتا ہے۔
یہ ایپ مئی 2025 میں متعارف کرائی گئی تھی، لیکن حالیہ ہفتوں میں اس کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
چین میں تنہا رہنے والے شہریوں نے اسے بڑے پیمانے پر ڈاؤن لوڈ کیا، جس کے نتیجے میں یہ ملک کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی پیڈ ایپ بن گئی ہے۔
چینی ریاستی میڈیا کے مطابق، 2030 تک چین میں ایک کروڑ کے لگ بھگ اکیلے رہنے والے گھرانے ہو سکتے ہیں، اور یہی لوگ اس ایپ کا ہدف ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اکیلے رہنے والے افراد، اندرونِ مزاج افراد، افسردگی میں مبتلا لوگ، بے روزگار اور دیگر کمزور حالات میں موجود افراد کو ایسی ایپ کی ضرورت ہے۔
ایک صارف نے کہا: “اکیلا رہنے والے افراد بغیر کسی کو اطلاع دیئے مر سکتے ہیں، اور کبھی کوئی مدد کے لیے نہیں آئے گا۔ میں کبھی سوچتا ہوں، اگر میں اکیلا مر گیا تو کون میرا جسم سنبھالے گا؟”
38 سالہ ولسن ہاؤ، جو اپنے خاندان سے تقریباً 100 کلومیٹر دور رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کی۔ وہ بیجنگ میں کام کرتے ہیں اور ہفتے میں دو دن اپنی بیوی اور بچے کے پاس جاتے ہیں، مگر زیادہ تر وقت پروجیکٹ پر کام کے سبب وہاں سوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: “مجھے فکر ہے کہ اگر کچھ ہوا تو میں اکیلا مر سکتا ہوں اور کوئی نہیں جان پائے گا۔ اسی لیے میں نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور اپنی ماں کو ہنگامی رابطہ کے طور پر رکھا۔”
ایپ کے نام کو لے کر کچھ تنقید بھی ہوئی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ نام منفی اثر ڈال سکتا ہے اور تجویز دی کہ اسے “Are you ok?” یا “How are you?” جیسا مثبت نام دیا جائے۔
ایپ بنانے والی کمپنی مون اسکیپ ٹیکنالوجیز نے بھی کہا ہے کہ وہ اس نام پر غور کر رہی ہے اور ممکنہ تبدیلی پر کام کر رہی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر یہ ایپ “Demumu” کے نام سے درج ہے اور امریکہ، سنگاپور، ہانگ کانگ میں سب سے اوپر دو اور آسٹریلیا اور اسپین میں ٹاپ فور پیڈ یوٹلیٹی ایپس میں شامل ہے۔
ابتدائی طور پر یہ ایپ مفت تھی، لیکن اب 8 یوآن ($1.15) میں دستیاب ہے۔
ایپ بنانے والے تین افراد ہیں، جو 1995 کے بعد پیدا ہوئے، اور انہوں نے چھوٹی ٹیم کے ساتھ ہینان کے شہر ژنگژو میں اسے تیار کیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 10% شیئرز ایک ملین یوآن میں فروخت کر کے سرمایہ بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
کمپنی مستقبل میں عمر رسیدہ افراد کے لیے بھی اس طرح کے پروڈکٹ پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ چین میں 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی زندگی میں حفاظت اور سہولت فراہم کی جا سکے۔
