انسانی جسم کی حیرت انگیز صلاحیت، بلند پہاڑوں میں زندہ رہنے کا نیا راز سامنے آگیا
دنیا کے مختلف ماحول انسان کے جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہمارے جسم ان حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔
انسانی ارتقا کا عمل رکا نہیں بلکہ آج بھی جاری ہے۔ دنیا کے مختلف ماحول انسان کے جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہمارے جسم ان حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔
بلند پہاڑی علاقوں میں کم فضائی دباؤ اور آکسیجن کی کمی عام انسان کے لیے بیماری کا سبب بن سکتی ہے جسے عام طور پر بلندی کی بیماری کہا جاتا ہے۔
تاہم تبت کی سطح مرتفع جیسے علاقوں جہاں فضا میں آکسیجن کی مقدار نمایاں طور پر کم ہے، وہاں بھی انسانی آبادیاں نہ صرف قائم ہیں بلکہ پھل پھول رہی ہیں۔
گزشتہ دس ہزار برسوں کے دوران اس خطے میں بسنے والے لوگوں کے جسم میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کی بدولت وہ کم آکسیجن والے ماحول میں بہتر طور پر زندہ رہ سکتے ہیں۔
عام حالات میں آکسیجن کی کمی سے جسم کے اعضا تک خون کے ذریعے مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کیفیت کو آکسیجن کی کمی بھی کہا جاتا ہے لیکن تبت کے باشندوں کے جسم اس چیلنج سے نمٹنے کی خاص صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی ماہر بشریات سنتھیا بیل اور ان کی ٹیم نے نیپال کے ان علاقوں میں تحقیق کی جو سطح سمندر سے ساڑھے تین ہزار میٹر سے زیادہ بلند ہیں۔
انہوں نے 46 سے 86 برس عمر کی 417 خواتین کا جائزہ لیا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسی بلند علاقے میں گزاری۔ تحقیق میں ہر خاتون کے ہاں پیدا ہونے والے زندہ بچوں کی تعداد اور مختلف جسمانی پیمانے ریکارڈ کیے گئے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن خواتین کے ہاں زندہ بچوں کی تعداد زیادہ تھی ان کے خون میں سرخ خلیوں کے اندر موجود آکسیجن پہنچانے والے مادے کی مقدار نہ بہت زیادہ تھی اور نہ بہت کم بلکہ درمیانی سطح پر تھی تاہم ان کے خون میں آکسیجن کی بھرپور موجودگی دیکھی گئی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جسم خون کو گاڑھا کیے بغیر آکسیجن کو مؤثر انداز میں اعضا تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے دل پر اضافی دباؤ نہیں پڑتا۔
مزید یہ کہ ایسی خواتین کے پھیپھڑوں میں خون کی روانی زیادہ بہتر تھی اور دل کا بایاں خانہ نسبتاً کشادہ تھا جو پورے جسم میں آکسیجن سے بھرپور خون پہنچانے کا کام کرتا ہے۔
اگرچہ معاشرتی عوامل بھی بچوں کی تعداد پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے کم عمری میں شادی اور طویل ازدواجی زندگی لیکن جسمانی خصوصیات کا کردار نمایاں رہا۔
یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قدرتی انتخاب آج بھی جاری ہے اور انسان اپنے ماحول کے مطابق مسلسل ڈھل رہا ہے۔
