امریکی فضائی طاقت کے اہم طیارے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا فیصلہ
لاک ہیڈ مارٹن کے حکام کے مطابق یہ الگورتھم طیارے کے آن بورڈ کمپیوٹرز پر چلتا ہے
عالمی دفاعی صنعت کی بڑی طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے اپنے اسٹیلتھ جنگی طیارے ایف 35 لائٹننگ 2 میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچر کی کامیاب فلائٹ ٹیسٹنگ کا اعلان کردیا ہے، جسے فضائی جنگ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق پروجیکٹ اوورواچ نامی یہ اے آئی سسٹم نامعلوم اہداف اور ریڈیو سگنلز کی فوری شناخت کر کے پائلٹ کو براہِ راست معلومات فراہم کرتا ہے، جس سے جنگی صورتحال میں فیصلہ سازی کی رفتار اور درستگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ آزمائش امریکی ریاست نیواڈا کے نیلس ایئر فورس بیس پر کی گئی جہاں پہلی بار ایک ٹیکٹیکل اے آئی ماڈل نے پرواز کے دوران خودکار طور پر اہداف کی شناخت کرتے ہوئے پائلٹ کے ڈسپلے پر معلومات فراہم کیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید فضائی جنگ میں پائلٹ کو بیک وقت ڈرون، میزائل اور دشمن طیاروں کے خطرات کا سامنا ہوتا ہے، ایسے میں AI سسٹم ڈیٹا کے بڑے حجم کو سیکنڈز میں پراسیس کر کے پائلٹ کو واضح تصویر فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نظام نے نامعلوم سگنلز کی شناخت میں ابہام کم کیا اور صورتحال سے آگاہی بہتر بنائی۔
پانچویں نسل کے طیارے میں چھٹی نسل کی ٹیکنالوجی
لاک ہیڈ مارٹن کے حکام کے مطابق یہ الگورتھم طیارے کے آن بورڈ کمپیوٹرز پر چلتا ہے اور مشن کے دوران نئے سگنلز سیکھ کر خود کو اپ ڈیٹ بھی کرسکتا ہے، جسے پانچویں نسل کے پلیٹ فارم میں چھٹی نسل کی ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نظام اس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت موجودہ جنگی پلیٹ فارمز کو مسلسل سافٹ ویئر اپ گریڈ کے ذریعے اگلی نسل کی صلاحیتوں سے لیس کیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جدید ڈرون اور میزائل خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل آپریشنل مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے تو F-35 پائلٹس نہ صرف تیزی سے خطرات کی نشاندہی کر سکیں گے بلکہ پیچیدہ جنگی ماحول میں برتری برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہیں گے۔
