اٹلی سے تعلق رکھنے والے مکینک اور معروف یو ٹیوبر آندریا مرازی نے دنیا کی سب سے پتلی کار بنا کر دنیا کو حیران کردیا۔
مرازی نے 1993 کی فیٹ پانڈا ماڈل کو ڈھال کر یہ کار تیار کی ہے جسے دنیا کی پہلی چلنے والی پتلی کار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
یہ منفرد کار جسے ’فلیٹ فیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے، بظاہر کسی مصنوعی ذہانت کی تخلیق معلوم ہوتی ہے، تاہم یہ ایک ایسے نوجوان مکینک کی محنت کا ثمر ہے جس نے دنیا کی سب سے تنگ کار بنانے کا خواب دیکھا تھا۔
اگرچہ یہ کار زیادہ تر 1993 کے اصل ماڈل سے ہی مماثلت رکھتی ہے، لیکن اس کی چوڑائی صرف 50 سینٹی میٹر ہے یعنی اس میں صرف ایک ڈرائیور کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور رات کے وقت روشنی کے لیے صرف ایک ہیڈلائٹ موجود ہے۔
مرازی نے اس کار کو مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا جبکہ اس کی تیاری میں تقریباً بارہ ماہ کا عرصہ لگا۔
یہ بھی پڑھیں: اطالوی شخص کا پوکر چپس سے منفرد عالمی کارنامہ
اس شاہکار کے حوالے سے مرازی کا کہنا ہے کہ اس کار میں 99 فیصد اصل پرزے استعمال کیے گئے ہیں، جسامت میں انتہائی پتلی ہونے کے باوجود اس گاڑی کی چاروں پہیے بھی اصل ہی رکھے گئے ہیں۔
فلیٹ فیٹ مکمل طور پر ایک الیکٹرک کار ہے جس کی اونچائی 145 سینٹی میٹر، لمبائی 340 سینٹی میٹر اور چوڑائی صرف 50 سینٹی میٹر ہے۔
اس کا کل وزن محض 264 کلوگرام ہے۔ کار کی زیادہ سے زیادہ رفتار 15 کلومیٹر یعنی 9.3 میل فی گھنٹہ ہے، جبکہ ایک بار چارج کرنے پر یہ 25 کلومیٹر 15.5 میل کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس غیر معمولی کار کے وائرل ہونے کے بعد، آندریا مرازی اب گنیز ورلڈ ریکارڈز میں دنیا کی سب سے پتلی کار کے طور پر اس کی باضابطہ اندراج کی کوشش کر رہے ہیں۔
