برطانوی پاکستانی کمیونٹی میں نوجوانوں کے منشیات کے استعمال کا مسئلہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ لیکن یہ خاموشی مسئلے کو حل نہیں کرتی — بلکہ اسے بڑھاتی ہے۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ برطانیہ میں پاکستانی نژاد نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح بڑھ رہی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ کینابس سب سے عام منشیات ہے، لیکن کوکین اور دیگر منشیات کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔
نوجوان منشیات کی طرف کیوں جاتے ہیں؟ وجوہات کئی ہیں۔ ہم مرتبہ دباؤ — دوست استعمال کرتے ہیں تو "نہ" کہنا مشکل ہوتا ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل — ڈپریشن اور اضطراب سے بچنے کے لیے منشیات کا سہارا لینا۔ بے روزگاری اور بے مقصدیت — جب مستقبل تاریک لگے تو نوجوان غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔ خاندانی مسائل — گھر میں تناؤ اور تشدد سے فرار کی کوشش۔
منشیات کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں۔ تعلیم متاثر ہوتی ہے، ملازمت جاتی ہے، خاندانی رشتے ٹوٹتے ہیں، اور قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ منشیات کی لت ایک شخص کی پوری زندگی تباہ کر سکتی ہے۔
روک تھام کے لیے کئی اقدامات ضروری ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے — منشیات کے بارے میں، ہم مرتبہ دباؤ کے بارے میں، اور "نہ" کہنے کی ہمت کے بارے میں۔ اسکولوں میں منشیات کے خلاف تعلیم ضروری ہے۔ کمیونٹی میں نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیاں — کھیل، فنون، رضاکارانہ کام — فراہم کرنی چاہیے۔
اگر آپ کا کوئی عزیز منشیات کی لت میں مبتلا ہے، تو مدد دستیاب ہے۔ FRANK helpline: 0300 123 6600 پر مفت، خفیہ مشورہ مل سکتا ہے۔ NHS کی addiction services بھی مفت ہیں۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں — یہ محبت کی علامت ہے۔
کیا یہ گائیڈ مددگار تھی؟
آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے

