لندن کے BFI Southbank میں اس سال کا اردو فلم فیسٹیول ایک یادگار تقریب تھی۔ تین دن، بیس فلمیں، اور ہزاروں شائقین — یہ فیسٹیول پاکستانی سنیما کی برطانیہ میں بڑھتی ہوئی موجودگی کا ثبوت ہے۔
فیسٹیول کا آغاز پاکستانی فلم "زندگی تماشہ" کی اسکریننگ سے ہوا جو پاکستان میں متنازعہ رہی لیکن بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہی گئی۔ اس فلم نے برطانوی آڈیئنس کو پاکستانی معاشرے کی پیچیدگیوں سے روشناس کرایا۔
برطانوی پاکستانی فلم سازوں کی فلمیں فیسٹیول کا خاص حصہ تھیں۔ ان فلموں میں برطانیہ میں پاکستانی زندگی کی کہانیاں تھیں — امیگریشن کا درد، شناخت کی تلاش، محبت اور خاندان کی کشمکش۔ یہ فلمیں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھیں۔
ڈاکیومنٹری سیکشن میں کئی اہم فلمیں تھیں۔ ایک ڈاکیومنٹری برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی پچاس سال کی تاریخ بیان کرتی تھی — پہلی نسل کے تارکین وطن کی آمد سے لے کر آج کی نسل تک۔ یہ ڈاکیومنٹری دیکھ کر بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
فیسٹیول میں ورکشاپس اور پینل ڈسکشنز بھی ہوئیں جہاں فلم سازوں، ناقدین، اور آڈیئنس نے پاکستانی سنیما کے مستقبل پر بات کی۔ سب کا اتفاق تھا کہ پاکستانی سنیما ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
اردو فلم فیسٹیول صرف فلمیں دکھانے کا پروگرام نہیں — یہ کمیونٹی کو اکٹھا کرنے، ثقافت کو زندہ رکھنے، اور برطانوی معاشرے کو پاکستانی کہانیاں سنانے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ اگلے سال کا فیسٹیول اور بھی بڑا ہوگا۔
کیا یہ گائیڈ مددگار تھی؟
آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے

