رہنمائی16 جون 202510 منٹ پڑھنے کا وقت

برطانیہ میں ویزا کے نئے قوانین: آپ کو کیا جاننا چاہیے

2025 کے نئے امیگریشن قوانین اور ان کا پاکستانی کمیونٹی پر اثر

فاطمہ علی

قانونی مشیر اور مصنفہ

فاطمہ علی
برطانیہ میں ویزا کے نئے قوانین: آپ کو کیا جاننا چاہیے

برطانوی پاسپورٹ اور ویزا دستاویزات — ایک نئے سفر کی شروعات

#ویزا#امیگریشن#قوانین#رہنمائی#2025

برطانوی حکومت نے 2025 میں امیگریشن کے قوانین میں اہم تبدیلیاں کی ہیں جو پاکستانی کمیونٹی کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنا ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو برطانیہ میں رہنا، کام کرنا یا تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اسکلڈ ورکر ویزا میں تبدیلیاں

اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے کم از کم تنخواہ کی حد بڑھا دی گئی ہے۔ اب درخواست دہندہ کو کم از کم £38,700 سالانہ تنخواہ کی ضرورت ہے، جو پہلے £26,200 تھی۔ یہ تبدیلی بہت سے پاکستانی پیشہ ور افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔

"یہ تبدیلیاں مشکل ہیں مگر ناممکن نہیں۔ صحیح منصوبہ بندی اور قانونی مشورے سے آپ اپنا راستہ نکال سکتے ہیں۔" — فاطمہ علی، امیگریشن لاء ماہر

فیملی ویزا کے نئے قوانین

فیملی ویزا کے لیے بھی آمدنی کی حد بڑھائی گئی ہے۔ اب اسپانسر کو کم از کم £29,000 سالانہ کمانا ضروری ہے۔ یہ تبدیلی ان خاندانوں کو متاثر کرتی ہے جو اپنے پیاروں کو برطانیہ بلانا چاہتے ہیں۔

اسٹوڈنٹ ویزا

اسٹوڈنٹ ویزا کے قوانین میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب بین الاقوامی طلباء اپنے ساتھ کم افراد کو لا سکتے ہیں اور گریجویشن کے بعد کام کرنے کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں۔

کیا کریں؟

اگر آپ برطانیہ میں ویزا کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ایک تجربہ کار امیگریشن وکیل سے مشورہ کریں۔ OISC (Office of the Immigration Services Commissioner) سے رجسٹرڈ مشیر ہی استعمال کریں۔

یاد رکھیں کہ امیگریشن قوانین پیچیدہ ہیں اور غلط معلومات آپ کی درخواست کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہمیشہ سرکاری ذرائع اور تجربہ کار ماہرین سے رہنمائی لیں۔

یہ مضمون شیئر کریں:

مصنف کے بارے میں

فاطمہ علی

فاطمہ علی

قانونی مشیر اور مصنفہ

فاطمہ علی ایک تجربہ کار امیگریشن اور ہاؤسنگ لاء کی ماہر ہیں جو لندن میں پریکٹس کرتی ہیں۔ وہ پاکستانی کمیونٹی کو قانونی مشورے فراہم کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

38 مضامین

تبصرے (3)

اپنا تبصرہ لکھیں

0/500

ریحانہ بیگم
21 جون 2025ریحانہ بیگم

بہت اچھا مضمون ہے۔ میرے بچے بھی اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ شکریہ کہ آپ نے اس موضوع پر لکھا۔

طارق محمود
20 جون 2025طارق محمود

یہ مضمون پڑھ کر دل کو سکون ملا۔ ہم اکیلے نہیں ہیں — یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اردو پریس یو کے کا شکریہ۔

زینب علی
19 جون 2025زینب علی

میں نے یہ مضمون اپنے والدین کو بھی پڑھوایا۔ انہوں نے بہت کچھ سمجھا جو میں انہیں سمجھا نہیں پا رہی تھی۔