برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس — NHS — دنیا کے سب سے بڑے صحت کے نظاموں میں سے ایک ہے۔ اور اس عظیم نظام کی ریڑھ کی ہڈی میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کا اہم حصہ ہے۔
اعداد و شمار کی کہانی
NHS میں اس وقت تقریباً پچاس ہزار سے زائد پاکستانی نژاد طبی پیشہ ور کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد NHS کی کل افرادی قوت کا تقریباً آٹھ فیصد ہے۔ کارڈیالوجی سے لے کر نیورولوجی تک، ہر شعبے میں پاکستانی ڈاکٹروں کی نمایاں موجودگی ہے۔
"میں نے کراچی میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور لندن میں اپنی خدمات پیش کیں۔ NHS نے مجھے موقع دیا اور میں نے اپنی پوری زندگی اس خدمت کو دے دی۔" — ڈاکٹر ظفر اقبال، کنسلٹنٹ سرجن
چیلنجز اور رکاوٹیں
مگر یہ سفر آسان نہیں تھا۔ بہت سے پاکستانی ڈاکٹروں کو برطانیہ آنے کے بعد اپنی ڈگریوں کو دوبارہ تسلیم کروانا پڑا، نئے امتحانات دینے پڑے، اور ثقافتی فرق کو پاٹنا پڑا۔
ڈاکٹر سمیرہ علی، جو اب لیڈز میں ایک مشہور GP ہیں، بتاتی ہیں: "جب میں پہلی بار NHS میں آئی تو مجھے لگا کہ میں ایک اجنبی دنیا میں ہوں۔ مگر آہستہ آہستہ میں نے اپنی جگہ بنائی اور آج میرے مریض مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔"
کووڈ کا دور
کووڈ-19 کی وبا کے دوران پاکستانی طبی عملے نے جو قربانیاں دیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ اس وبا میں جان گنوانے والے NHS کے عملے میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
نئی نسل کا عزم
آج برطانیہ میں پیدا ہونے والی پاکستانی نسل بھی طب کے شعبے میں آگے آ رہی ہے۔ میڈیکل اسکولوں میں پاکستانی نژاد طلباء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف اپنے خاندانوں کا فخر ہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی امید بھی ہیں۔
NHS میں پاکستانی ڈاکٹروں کی کہانی صرف کامیابی کی کہانی نہیں — یہ قربانی، محنت، اور خدمت کی کہانی ہے۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے اپنا گھر چھوڑا، اپنے پیاروں سے دور رہے، مگر لاکھوں برطانوی مریضوں کی زندگیاں بچائیں۔

