"میں ٹھیک ہوں" — یہ تین الفاظ برطانوی پاکستانی کمیونٹی میں سب سے زیادہ بولے جانے والے جھوٹ ہیں۔ ذہنی صحت کے مسائل ہمارے درمیان موجود ہیں، لیکن ہم انہیں تسلیم کرنے سے ڈرتے ہیں۔ یہ خاموشی جان لیوا ہو سکتی ہے۔
NHS کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں میں ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی قومی اوسط سے بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں ذہنی صحت کے مسائل کم ہیں — بلکہ یہ ہے کہ ہم مدد مانگنے سے ڈرتے ہیں۔
ہماری کمیونٹی میں ذہنی بیماری کو "پاگل پن" سمجھا جاتا ہے۔ ڈپریشن کو "کمزوری" کہا جاتا ہے۔ اضطراب کو "وسوسہ" کہہ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ "صبر کرو، دعا کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا" — یہ مشورہ اکثر دیا جاتا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
خواتین کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ گھریلو ذمہ داریاں، خاندانی دباؤ، اور سماجی توقعات — یہ سب مل کر ذہنی تناؤ پیدا کرتے ہیں۔ لیکن خواتین کو اکثر اپنے مسائل بیان کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ دو ثقافتوں کے درمیان کشمکش، تعلیمی دباؤ، نسلی امتیاز، اور سوشل میڈیا کا اثر — یہ سب مل کر ایک مشکل صورتحال پیدا کرتے ہیں۔
لیکن تبدیلی آ رہی ہے۔ نوجوان ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات جو خود پاکستانی نژاد ہیں، کمیونٹی میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ مساجد میں ذہنی صحت کے موضوع پر خطبے دیے جا رہے ہیں۔ کمیونٹی تنظیمیں مفت مشاورت کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ذہنی صحت کے مسائل سے گزر رہا ہے، تو مدد مانگنا کمزوری نہیں — یہ بہادری ہے۔ NHS کی خدمات مفت ہیں۔ اپنے GP سے بات کریں، یا Samaritans کو 116 123 پر کال کریں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔
کیا یہ گائیڈ مددگار تھی؟
آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے

