مسائل18 جون 20259 منٹ پڑھنے کا وقت

ذہنی صحت اور پاکستانی کمیونٹی: خاموشی توڑنے کا وقت

کمیونٹی میں بیداری کی ضرورت اور پیشہ ورانہ مدد کے راستے

ڈاکٹر سارہ ملک

ماہر نفسیات اور مصنفہ

ڈاکٹر سارہ ملک
ذہنی صحت اور پاکستانی کمیونٹی: خاموشی توڑنے کا وقت

ذہنی صحت کی دیکھ بھال — ایک ضروری قدم

#ذہنی صحت#نفسیات#کمیونٹی#مسائل#صحت

پاکستانی کمیونٹی میں ذہنی صحت ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنا اکثر مشکل سمجھا جاتا ہے۔ "پاگل" کا لیبل، خاندانی شرم، اور مذہبی غلط فہمیاں — یہ سب مل کر لوگوں کو مدد مانگنے سے روکتے ہیں۔

خاموشی کی قیمت

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ برطانوی پاکستانی کمیونٹی میں ڈپریشن اور اضطراب کی شرح عام آبادی سے زیادہ ہے، مگر پیشہ ورانہ مدد لینے کی شرح بہت کم ہے۔ یہ فرق ایک سنگین مسئلہ ہے۔

"ذہنی بیماری جسمانی بیماری کی طرح ہے — اسے چھپانے کی ضرورت نہیں، علاج کی ضرورت ہے۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں، یہ ہمت ہے۔" — ڈاکٹر سارہ ملک

کمیونٹی میں رکاوٹیں

پاکستانی کمیونٹی میں ذہنی صحت کی مدد لینے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ سماجی بدنامی کا خوف ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے ماہر نفسیات سے ملاقات کی تو لوگ کیا کہیں گے۔

نوجوانوں کا بحران

برطانوی پاکستانی نوجوانوں میں ذہنی صحت کا بحران خاص طور پر سنگین ہے۔ شناخت کا بحران، نسل پرستی کا تجربہ، خاندانی دباؤ اور تعلیمی تناؤ — یہ سب مل کر ایک بھاری بوجھ بناتے ہیں۔

مدد کے راستے

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ذہنی صحت کے مسائل سے گزر رہا ہے تو مدد دستیاب ہے۔ NHS کے ذریعے آپ مفت ذہنی صحت کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے GP سے بات کریں اور وہ آپ کو مناسب ماہر کے پاس بھیجیں گے۔

یاد رکھیں: مدد مانگنا کمزوری نہیں، یہ ہمت ہے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں اور آپ کی مدد کے لیے لوگ موجود ہیں۔ خاموشی توڑیں اور آگے بڑھیں۔

یہ مضمون شیئر کریں:

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر سارہ ملک

ڈاکٹر سارہ ملک

ماہر نفسیات اور مصنفہ

ڈاکٹر سارہ ملک ایک ماہر نفسیات ہیں جو لندن میں پریکٹس کرتی ہیں۔ وہ پاکستانی کمیونٹی میں ذہنی صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کرتی ہیں اور NHS کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔

29 مضامین

تبصرے (3)

اپنا تبصرہ لکھیں

0/500

ریحانہ بیگم
21 جون 2025ریحانہ بیگم

بہت اچھا مضمون ہے۔ میرے بچے بھی اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ شکریہ کہ آپ نے اس موضوع پر لکھا۔

طارق محمود
20 جون 2025طارق محمود

یہ مضمون پڑھ کر دل کو سکون ملا۔ ہم اکیلے نہیں ہیں — یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اردو پریس یو کے کا شکریہ۔

زینب علی
19 جون 2025زینب علی

میں نے یہ مضمون اپنے والدین کو بھی پڑھوایا۔ انہوں نے بہت کچھ سمجھا جو میں انہیں سمجھا نہیں پا رہی تھی۔