لندن میں ایک کمرے کا کرایہ اب اوسطاً £1,500 ماہانہ سے زیادہ ہے۔ برمنگھم اور مانچسٹر میں بھی کرایے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستانی خاندانوں کے لیے، جن میں اکثر بڑے خاندان ہوتے ہیں، رہائش کا بحران ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔
رہائش کا بحران کئی شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ بہت سے خاندان overcrowded مکانوں میں رہتے ہیں — ایک چھوٹے گھر میں تین نسلیں ایک ساتھ۔ کچھ خاندان کرایہ ادا کرنے کے لیے کھانے پر سمجھوتہ کرتے ہیں۔ نوجوان جوڑے شادی کے بعد بھی والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ الگ گھر کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
مکان خریدنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ لندن میں اوسط مکان کی قیمت £500,000 سے زیادہ ہے۔ Deposit کے لیے £50,000 سے زیادہ کی ضرورت ہے — یہ رقم جمع کرنا زیادہ تر خاندانوں کے لیے ناممکن ہے۔
نسلی امتیاز رہائش کے میدان میں بھی موجود ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستانی نام والے کرایہ داروں کو مکان ملنے میں زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ کچھ مکان مالک مسلمان کرایہ داروں کو ترجیح نہیں دیتے۔
حکومتی مدد دستیاب ہے لیکن محدود ہے۔ Help to Buy اسکیم پہلی بار مکان خریدنے والوں کی مدد کرتی ہے۔ Housing Benefit کم آمدنی والے خاندانوں کو کرایے میں مدد دیتی ہے۔ Council Housing کی فہرست میں نام ڈالنا ممکن ہے لیکن انتظار کئی سال کا ہو سکتا ہے۔
کمیونٹی کی سطح پر بھی حل تلاش کیے جا رہے ہیں۔ کچھ پاکستانی خاندان مل کر مکان خریدتے ہیں۔ کمیونٹی تنظیمیں رہائش کے بارے میں مشاورت فراہم کرتی ہیں۔ رہائش کا بحران ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے حکومتی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
کیا یہ گائیڈ مددگار تھی؟
آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے

