میرے والد ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ میری ماں گھر میں کام کرتی ہیں۔ ہمارے گھر میں کبھی کوئی یونیورسٹی نہیں گیا تھا۔ مگر میں نے آکسفورڈ جانے کا خواب دیکھا — اور وہ خواب پورا ہوا۔
شروعات
مانچسٹر کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھتے ہوئے مجھے پہلی بار آکسفورڈ کا خیال آیا۔ میرے ٹیچر نے کہا: "تم اہل ہو۔ کوشش کرو۔" یہ الفاظ میری زندگی بدل گئے۔
"آکسفورڈ صرف امیروں کے لیے نہیں۔ اگر آپ میں صلاحیت ہے اور محنت کرنے کا عزم ہے تو آپ بھی وہاں پہنچ سکتے ہیں۔" — حسن رضا
چیلنجز
آکسفورڈ میں پہنچنا ایک بات تھی، وہاں ٹکے رہنا دوسری بات۔ میں ایک ایسی دنیا میں تھا جہاں زیادہ تر طلباء پرائیویٹ اسکولوں سے آئے تھے، جن کے والدین پروفیسر یا ڈاکٹر تھے۔ مجھے اپنی جگہ بنانی تھی۔
خاندان کی حمایت
میرے والدین نے کبھی نہیں سمجھا کہ آکسفورڈ کیا ہے، مگر انہوں نے ہمیشہ میری حمایت کی۔ میرے والد نے اضافی شفٹیں کیں تاکہ میری فیس ادا ہو سکے۔ یہ قربانی میں کبھی نہیں بھولوں گا۔
آگے کا سفر
آج میں ایک کامیاب وکیل ہوں اور پہلی نسل کے طلباء کی رہنمائی کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر پاکستانی نوجوان جانے کہ اس کے لیے بھی راستہ کھلا ہے — چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو۔
آکسفورڈ نے مجھے بہت کچھ دیا، مگر سب سے قیمتی چیز یہ یقین دیا کہ میں کچھ بھی حاصل کر سکتا ہوں۔ اور یہ یقین میں ہر اس نوجوان کو دینا چاہتا ہوں جو خواب دیکھنے سے ڈرتا ہے۔

