زندگی17 جون 20258 منٹ پڑھنے کا وقت

پہلی نسل کے طالب علم: آکسفورڈ تک کا سفر

محنت، قربانی اور امید کی کہانی

حسن رضا

مصنف اور تعلیمی مشیر

حسن رضا
پہلی نسل کے طالب علم: آکسفورڈ تک کا سفر

آکسفورڈ یونیورسٹی — ایک خواب جو حقیقت بنا

#تعلیم#آکسفورڈ#نوجوان#کامیابی#زندگی

میرے والد ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ میری ماں گھر میں کام کرتی ہیں۔ ہمارے گھر میں کبھی کوئی یونیورسٹی نہیں گیا تھا۔ مگر میں نے آکسفورڈ جانے کا خواب دیکھا — اور وہ خواب پورا ہوا۔

شروعات

مانچسٹر کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھتے ہوئے مجھے پہلی بار آکسفورڈ کا خیال آیا۔ میرے ٹیچر نے کہا: "تم اہل ہو۔ کوشش کرو۔" یہ الفاظ میری زندگی بدل گئے۔

"آکسفورڈ صرف امیروں کے لیے نہیں۔ اگر آپ میں صلاحیت ہے اور محنت کرنے کا عزم ہے تو آپ بھی وہاں پہنچ سکتے ہیں۔" — حسن رضا

چیلنجز

آکسفورڈ میں پہنچنا ایک بات تھی، وہاں ٹکے رہنا دوسری بات۔ میں ایک ایسی دنیا میں تھا جہاں زیادہ تر طلباء پرائیویٹ اسکولوں سے آئے تھے، جن کے والدین پروفیسر یا ڈاکٹر تھے۔ مجھے اپنی جگہ بنانی تھی۔

خاندان کی حمایت

میرے والدین نے کبھی نہیں سمجھا کہ آکسفورڈ کیا ہے، مگر انہوں نے ہمیشہ میری حمایت کی۔ میرے والد نے اضافی شفٹیں کیں تاکہ میری فیس ادا ہو سکے۔ یہ قربانی میں کبھی نہیں بھولوں گا۔

آگے کا سفر

آج میں ایک کامیاب وکیل ہوں اور پہلی نسل کے طلباء کی رہنمائی کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر پاکستانی نوجوان جانے کہ اس کے لیے بھی راستہ کھلا ہے — چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو۔

آکسفورڈ نے مجھے بہت کچھ دیا، مگر سب سے قیمتی چیز یہ یقین دیا کہ میں کچھ بھی حاصل کر سکتا ہوں۔ اور یہ یقین میں ہر اس نوجوان کو دینا چاہتا ہوں جو خواب دیکھنے سے ڈرتا ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں:

مصنف کے بارے میں

حسن رضا

حسن رضا

مصنف اور تعلیمی مشیر

حسن رضا آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور اب لندن میں ایک قانونی ادارے میں کام کرتے ہیں۔ وہ پہلی نسل کے طلباء کی رہنمائی کے لیے ایک تنظیم بھی چلاتے ہیں۔

14 مضامین

تبصرے (3)

اپنا تبصرہ لکھیں

0/500

ریحانہ بیگم
21 جون 2025ریحانہ بیگم

بہت اچھا مضمون ہے۔ میرے بچے بھی اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ شکریہ کہ آپ نے اس موضوع پر لکھا۔

طارق محمود
20 جون 2025طارق محمود

یہ مضمون پڑھ کر دل کو سکون ملا۔ ہم اکیلے نہیں ہیں — یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اردو پریس یو کے کا شکریہ۔

زینب علی
19 جون 2025زینب علی

میں نے یہ مضمون اپنے والدین کو بھی پڑھوایا۔ انہوں نے بہت کچھ سمجھا جو میں انہیں سمجھا نہیں پا رہی تھی۔