میں اٹھارہ سال کا تھا جب پہلی بار کسی نے مجھے "واپس اپنے ملک جاؤ" کہا۔ میں برطانیہ میں پیدا ہوا تھا، یہاں پلا بڑھا تھا — مگر اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ کچھ لوگوں کے لیے میں کبھی "برطانوی" نہیں ہوں گا۔
روزمرہ کی نسل پرستی
نسل پرستی ہمیشہ واضح نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ایک نظر ہوتی ہے، کبھی ایک جملہ، کبھی ایک فیصلہ جو آپ کے خلاف کیا جاتا ہے۔ اسے "مائیکرو ایگریشن" کہتے ہیں — چھوٹی چھوٹی باتیں جو مل کر ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہیں۔
"جب میں نے نوکری کے لیے درخواست دی تو میرا نام دیکھ کر انٹرویو نہیں ملا۔ جب میں نے انگریزی نام استعمال کیا تو فوراً بلاوا آ گیا۔ یہ تجربہ میری زندگی بدل گیا۔" — ایک نوجوان کا تجربہ
اسکول اور یونیورسٹی میں
تعلیمی اداروں میں نسل پرستی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستانی طلباء اکثر رپورٹ کرتے ہیں کہ انہیں کم توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی صلاحیتوں کو کم سمجھا جاتا ہے، اور انہیں اپنی شناخت چھپانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ذہنی صحت پر اثر
نسل پرستی کا ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نسل پرستی کا شکار ہونے والے افراد میں ڈپریشن، اضطراب اور خود اعتمادی کی کمی زیادہ پائی جاتی ہے۔
مزاحمت اور آگے بڑھنا
مگر پاکستانی نوجوان خاموش نہیں بیٹھے۔ وہ آواز اٹھا رہے ہیں، تنظیمیں بنا رہے ہیں، اور نظام کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انہیں ایک طاقتور آواز دی ہے۔
نسل پرستی کے خلاف لڑنا آسان نہیں۔ مگر ہر وہ نوجوان جو آواز اٹھاتا ہے، جو اپنی کہانی سناتا ہے، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بناتا ہے۔

