مسائل14 جون 20256 منٹ پڑھنے کا وقت

نسل پرستی کا سامنا: ایک نوجوان کی آپ بیتی

خاموشی توڑنے کا وقت آ گیا ہے

عمر فاروق

صحافی اور سماجی کارکن

عمر فاروق
نسل پرستی کا سامنا: ایک نوجوان کی آپ بیتی

ایک نوجوان کا حوصلہ — نسل پرستی کے خلاف خاموش مزاحمت

#نسل پرستی#حقوق#نوجوان#مسائل#برطانیہ

میں اٹھارہ سال کا تھا جب پہلی بار کسی نے مجھے "واپس اپنے ملک جاؤ" کہا۔ میں برطانیہ میں پیدا ہوا تھا، یہاں پلا بڑھا تھا — مگر اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ کچھ لوگوں کے لیے میں کبھی "برطانوی" نہیں ہوں گا۔

روزمرہ کی نسل پرستی

نسل پرستی ہمیشہ واضح نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ایک نظر ہوتی ہے، کبھی ایک جملہ، کبھی ایک فیصلہ جو آپ کے خلاف کیا جاتا ہے۔ اسے "مائیکرو ایگریشن" کہتے ہیں — چھوٹی چھوٹی باتیں جو مل کر ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہیں۔

"جب میں نے نوکری کے لیے درخواست دی تو میرا نام دیکھ کر انٹرویو نہیں ملا۔ جب میں نے انگریزی نام استعمال کیا تو فوراً بلاوا آ گیا۔ یہ تجربہ میری زندگی بدل گیا۔" — ایک نوجوان کا تجربہ

اسکول اور یونیورسٹی میں

تعلیمی اداروں میں نسل پرستی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستانی طلباء اکثر رپورٹ کرتے ہیں کہ انہیں کم توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی صلاحیتوں کو کم سمجھا جاتا ہے، اور انہیں اپنی شناخت چھپانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ذہنی صحت پر اثر

نسل پرستی کا ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نسل پرستی کا شکار ہونے والے افراد میں ڈپریشن، اضطراب اور خود اعتمادی کی کمی زیادہ پائی جاتی ہے۔

مزاحمت اور آگے بڑھنا

مگر پاکستانی نوجوان خاموش نہیں بیٹھے۔ وہ آواز اٹھا رہے ہیں، تنظیمیں بنا رہے ہیں، اور نظام کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انہیں ایک طاقتور آواز دی ہے۔

نسل پرستی کے خلاف لڑنا آسان نہیں۔ مگر ہر وہ نوجوان جو آواز اٹھاتا ہے، جو اپنی کہانی سناتا ہے، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بناتا ہے۔

یہ مضمون شیئر کریں:

مصنف کے بارے میں

عمر فاروق

عمر فاروق

صحافی اور سماجی کارکن

عمر فاروق مانچسٹر میں مقیم ایک نوجوان صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھانے اور پاکستانی نوجوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

19 مضامین

تبصرے (3)

اپنا تبصرہ لکھیں

0/500

ریحانہ بیگم
21 جون 2025ریحانہ بیگم

بہت اچھا مضمون ہے۔ میرے بچے بھی اسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ شکریہ کہ آپ نے اس موضوع پر لکھا۔

طارق محمود
20 جون 2025طارق محمود

یہ مضمون پڑھ کر دل کو سکون ملا۔ ہم اکیلے نہیں ہیں — یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اردو پریس یو کے کا شکریہ۔

زینب علی
19 جون 2025زینب علی

میں نے یہ مضمون اپنے والدین کو بھی پڑھوایا۔ انہوں نے بہت کچھ سمجھا جو میں انہیں سمجھا نہیں پا رہی تھی۔