Breaking

برطانیہ میں نئے ویزا قوانین 2025 سے نافذ — پاکستانی کمیونٹی کے لیے اہم تبدیلیاں

مسائل17 جون 202512 منٹ پڑھنے کا وقت

گھریلو تشدد: خاموشی توڑنے کا وقت

پاکستانی خاندانوں میں گھریلو تشدد کی حقیقت، متاثرین کی مدد اور قانونی حقوق

عائشہ ملک

عائشہ ملک
گھریلو تشدد: خاموشی توڑنے کا وقت

یہ مضمون شیئر کریں:

گھریلو تشدد ہر معاشرے میں موجود ہے، لیکن پاکستانی کمیونٹی میں اسے اکثر "گھر کا معاملہ" کہہ کر چھپایا جاتا ہے۔ یہ خاموشی متاثرین کو مزید تکلیف میں مبتلا کرتی ہے اور تشدد کو جاری رہنے دیتی ہے۔

برطانیہ میں گھریلو تشدد ایک جرم ہے۔ جسمانی تشدد کے علاوہ، ذہنی تشدد، مالی کنٹرول، اور جبری تنہائی بھی قانونی طور پر گھریلو تشدد کی تعریف میں آتے ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کیونکہ بہت سی خواتین صرف جسمانی تشدد کو "اصل" تشدد سمجھتی ہیں۔

پاکستانی کمیونٹی میں گھریلو تشدد کی رپورٹنگ کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ خاندانی عزت کا خوف ہے — "لوگ کیا کہیں گے؟" دوسری وجہ مالی انحصار ہے — بہت سی خواتین اپنے شوہروں پر مالی طور پر منحصر ہیں اور انہیں چھوڑنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ تیسری وجہ بچوں کی فکر ہے — "بچوں کے لیے برداشت کر رہی ہوں۔"

لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تشدد والے گھر میں رہنا بچوں کے لیے بھی نقصاندہ ہے۔ بچے جو گھریلو تشدد دیکھتے ہیں وہ خود بھی ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور بڑے ہو کر تشدد کو نارمل سمجھنے لگتے ہیں۔

اگر آپ گھریلو تشدد کا شکار ہیں، تو آپ کے پاس مدد کے کئی راستے ہیں۔ National Domestic Abuse Helpline: 0808 2000 247 (مفت، 24 گھنٹے)۔ Southall Black Sisters ایک تنظیم ہے جو خاص طور پر ایشیائی خواتین کی مدد کرتی ہے۔ پولیس کو 999 پر کال کریں اگر آپ فوری خطرے میں ہیں۔

یاد رکھیں: آپ کو یہ برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ مدد مانگنا آپ کا حق ہے۔ آپ اکیلی نہیں ہیں، اور آپ کے لیے ایک بہتر زندگی ممکن ہے۔

کیا یہ گائیڈ مددگار تھی؟

آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے

مصنف کے بارے میں

عائشہ ملک

عائشہ ملک

برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے لکھنے والے تجربہ کار صحافی

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

0/500

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!