امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف کالعدم قرار دے دیے

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف کالعدم قرار دے دیے

امریکہ کی سپریم کورٹ نے جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے عالمی درآمدی ٹیرف کالعدم قرار دے دیے جسے ان کے معاشی ایجنڈے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعے کی سماعت میں چھ  کے مقابلے میں تین ججوں کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ہنگامی اختیارات کے قانون کے تحت لگائے گئے یہ ٹیرف آئین کے مطابق نہیں تھے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے، صدر کو نہیں۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے فیصلے میں لکھا کہ آئین کے مطابق ٹیکس لگانے کا اختیار انتظامیہ کو نہیں دیا گیا۔

ججز سیموئل الیٹو، کلیرنس تھامس اور بریٹ کیوانا نے فیصلے سے اختلاف کیا۔ جسٹس کیوانا نے کہا کہ یہ ٹیرف پالیسی کے لحاظ سے درست ہوں یا نہ ہوں، لیکن قانونی طور پر جائز تھے۔

فیصلہ سامنے آنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ’شرمناک‘ قرار دیا۔

فیصلے کے وقت ٹرمپ مختلف ریاستوں کے گورنرز کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا کہ کمپنیوں کو ادا کیے گئے اربوں ڈالر کے ٹیرف واپس ملیں گے یا نہیں۔ کئی کمپنیاں، جن میں بڑی ریٹیل چینز بھی شامل ہیں، نچلی عدالتوں میں رقم کی واپسی کے مطالبات کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق رقم کی واپسی کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر تک ان درآمدی ٹیکسز سے امریکی خزانے کو 133 ارب ڈالر سے زائد وصول ہو چکے تھے جبکہ آئندہ دس برس میں اس کے اثرات کا تخمینہ تقریباً تین کھرب ڈالر لگایا گیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی فیصلے کے باوجود ٹرمپ دیگر قوانین کے تحت ٹیرف عائد کر سکتے ہیں، اگرچہ ان قوانین میں رفتار اور دائرہ کار کی زیادہ پابندیاں موجود ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درخواست گزاروں کے وکیل نیل کٹیال نے فیصلے کو ’شاندار‘ کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس اصول کی توثیق ہے کہ امریکی عوام پر ٹیکس لگانے کا اختیار کسی ایک فرد نہیں بلکہ کانگریس کے پاس ہے۔

یہ مقدمہ ٹرمپ کے وسیع حکومتی ایجنڈے کا پہلا بڑا معاملہ تھا جو سپریم کورٹ کے سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اسے امریکی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف فیصلہ ملکی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ 1977 کے ہنگامی اختیارات کے قانون کے تحت صدر کو درآمدات کو کنٹرول کرنے اور ٹیرف مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا اور کہا کہ کسی بھی بڑے معاشی فیصلے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہے۔

ٹرمپ نے اپریل 2025 میں تجارتی خسارے کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے بیشتر ممالک پر نام نہاد ’جوابی ٹیرف‘ عائد کیے تھے، جس کے بعد مختلف ریاستوں اور چھوٹے کاروباروں کی جانب سے متعدد مقدمات دائر کیے گئے تھے۔

عدالت کے فیصلے کے باوجود جنگ بندی جیسے دیگر معاملات میں صدارتی اختیارات پر قانونی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں