محکمہ انسداد دہشت گردی (سی سی ڈی) سندھ کے حکام نے پیر کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر قائد میں مبینہ دہشت گردی کی بڑی واردات کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ دو ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے۔
ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل (آئی جی) سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سندھ غلام اظفر مہیسر نے میڈیا کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہر قائد میں مبینہ دہشت گردی کی بڑی واردات کو ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ 2000 کلو گرام دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا ہے۔
سنٹرل پولیس آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک کی قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے اور پریمیئر انٹیلیجنس ایجنسی کو اطلاع ملی تھی کہ عسکریت پسندوں نے کراچی شہر سے 40 کلومیٹر دور ایک مکان کرائے پر لے رکھا ہے اور وہاں وہ بارودی مواد کی تیاری کر رہے ہیں۔
’اس کا مقصد کراچی کے مختلف حصوں میں حملے کر کے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس منصوبے سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکمت عملی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو مختلف مقامات اور علاقوں میں تعینات کیا۔
ڈی آّئی جی سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ کئی روز کی تگ و دو کے بعد رئیس گوٹھ میں اس جگہ سے متعلق معلومات حاصل ہوئی جہاں ملزمان اور تباہ کن مواد موجود تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مذکورہ مکان پر مشترکہ طور پر ریڈ کیا اور وہاں سے ایک ژخص کو گرفتار کر لیا جبکہ تین چار دوسرے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
