پاکستان: مرکزی بینک کی پہلی خاتون سربراہ شمشاد اختر 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

پاکستان: مرکزی بینک کی پہلی خاتون سربراہ شمشاد اختر 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

پاکستان کی سٹیٹ بینک کی پہلی خاتون سربراہ شمشاد اختر 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

شمشاد اختر 2006 سے 2009 تک سٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر رہیں اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی اور واحد خاتون تھیں۔

حالیہ دنوں میں شمشاد اختر سٹاک ایکسچینج کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، یوں انہیں پاکستان کی مانیٹری پالیسی، مالی نظم و نسق اور کیپیٹل مارکیٹس تینوں میں کلیدی کردار ادا کرنے کا منفرد اعزاز حاصل رہا۔

بعد ازاں وہ 2018 اور 2024 کے عام انتخابات سے قبل قائم ہونے والی نگران حکومتوں میں وفاقی وزیرِ خزانہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی رہیں۔

بین الاقوامی سطح پر بھی انہیں ایک تجربہ کار معاشی پالیسی ساز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ ورلڈ بینک میں نائب صدر، اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکیپ (UN ESCAP) کی ایگزیکٹو سیکریٹری اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمشاد اختر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کراچی اور اسلام آباد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی آف پنجاب، قائداعظم یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سسیکس اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی۔

صدر آصف علی زرداری نے سابق گورنر سٹیٹ بینک شمشاد اختر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملکی معاشی میدان میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شمشاد اختر کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ وہ ایک قابل، دیانت دار اور بااصول معاشی ماہر تھیں۔  انہوں نے مرحومہ کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈاکٹر شمشاد اختر کی وفات پر گہرے دکھ اور لواحقین سےتعزیت کا اظہار کیا۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں