ایران کے جوہری پروگرام کو دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے: اسرائیلی وزیر خارجہ

ایران کے جوہری پروگرام کو دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے: اسرائیلی وزیر خارجہ

اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری قیادت، جوہری سائنس دانوں اور عام شہریوں کی موت کے بعد آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے تہران کے جوابی حملے جاری ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل بھی مختلف ایرانی شہروں اور تنصیبات پر میزائل حملے کر رہا ہے۔ اس طرح یہ جنگ اب نویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔

ایران اور اسرائیلی جنگ کی اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:


قم شہر پر حملے میں قدس فورس کے کمانڈر کو مار دیا گیا: اسرائیلی وزیر دفاع

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے شہر قم میں ایک فلیٹ پر حملے میں قدس فورس کے ایک کمانڈر کو مار دیا ہے۔

جان سے جانے والے  کمانڈر کی شناخت سعید ایزدی کے طور پر ہوئی، جو قدس فورس کے فلسطین کور کے سربراہ تھے۔ قدس فورس ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم شاخ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کے صوبہ قم میں پولیس نے کہا ہے کہ 13 جون سے اب تک اسرائیلی جاسوسی اداروں سے منسلک 22 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

صوبہ قم میں پولیس انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا کہ ’22 افراد کو صہیونی ریاست کے جاسوسی اداروں سے تعلق، عوامی رائے کو متاثر کرنے اور مجرم ریاست کی حمایت کرنے کے الزامات میں شناخت کر کے گرفتار کیا گیا۔‘

قبل ازیں خبر رساں ادارے تسنیم نے جمعے کو یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایک یورپی شہری کو بھی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تاہم ان کی شہریت یا گرفتاری کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل سے تعاون کے الزامات میں پورے ملک میں کم از کم 223 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران کے اصفہان میں جوہری مرکز کو نشانہ بنایا، تاہم کسی بھی خطرناک مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔


ہم نے ایران کے جوہری پروگرام دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے: اسرائیلی وزیر خارجہ

اسرائیل نے ہفتے کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے کر دیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے جرمن اخبار بِلڈ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: ’ہم جو اندازہ لگا رہے ہیں، اس کے مطابق ہم نے پہلے ہی کم از کم دو یا تین سال کے لیے ان کے پاس جوہری بم کے امکان میں تاخیر کر دی ہے۔‘

سار نے کہا کہ اسرائیل کا ایک ہفتہ طویل حملہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا: ’ہم اس خطرے کو دور کرنے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے، جو ہم وہاں کر سکتے ہیں۔‘


ایران پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 657 اموات، 263 زخمی: امریکی این جی او

امریکہ میں قائم ایک این جی او ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی نے اپنے ذرائع اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں اب تک کم از کم 657 افراد جان سے گئے ہیں، جن میں 263 عام شہری بھی شامل ہیں۔

ایران نے اتوار (15 جون) کے بعد سے اموات اور زخمیوں کی تعداد کو اپ ڈیٹ نہیں کیا ہے، جب اس نے کہا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 224 افراد مارے گئے ہیں، جن میں فوجی کمانڈر، جوہری سائنس دان اور عام شہری شامل ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل نے 13 جون سے شروع ہونے والی جارحیت میں جوہری اور فوجی مقامات کے علاوہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ 

جبکہ ایران  کے جوابی حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 25 افراد مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ کے ایک ہسپتال نے تازہ ترین ایرانی حملے کے بعد 19 زخمیوں کی اطلاع دی ہے، جن میں ایک شخص کی حالت تشویش ناک ہے۔

اسرائیل کے نیشنل پبلک ڈپلومیسی ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ ملک پر اب تک 450 سے زیادہ میزائل داغے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 400 ڈرون بھی شامل ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے فوجی مقامات اور فضائیہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

 


ایران میں میزائلوں کے ذخیرے اور لانچنگ سائٹس پر نیا حملہ: اسرائیلی فضائیہ

اسرائیلی فضائیہ نے ہفتے کو کہا کہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے نویں دن وسطی ایران میں میزائلوں کے ذخیرے اور لانچنگ سائٹس کے خلاف فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ اس نے ’وسطی ایران میں میزائل سٹوریج اور لانچنگ انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں