ایران پر اسرائیلی حملے، تہران کا موساد کے پانچ مشتبہ جاسوس گرفتار کرنے کا اعلان

ایران پر اسرائیلی حملے، تہران کا موساد کے پانچ مشتبہ جاسوس گرفتار کرنے کا اعلان

اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری قیادت، جوہری سائنس دانوں اور عام شہریوں کی موت کے بعد آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے تہران کے جوابی حملے جاری ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل بھی مختلف ایرانی شہروں اور تنصیبات پر میزائل حملے کر رہا ہے۔ اس طرح یہ جنگ اب چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’تہران کو فوری طور پر خالی کرنے‘ کے انتباہ کے بعد ایرانی دارالحکومت سے شہریوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران اور اسرائیلی جنگ کی اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:


ایران کی میزائل تنصیبات پر اسرائیل کے حملے

اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو اسرائیل نے ایران کی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے صوبہ اصفہان میں اسرائیلی ڈرون ہرمیز کو مار گرانے کی ویڈیو جاری کی ہے۔

ایران نے بدھ کو کہا کہ اس نے اسرائیل کی موساد انٹیلی جنس ایجنسی کے پانچ مشتبہ ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے۔

گرفتار کیے گئے ایجنٹس پر آن لائن، ایران کی ساکھ کو خراب کرنے کا الزام ہے۔ ایران کے خبر رساں اداروں تسنیم اور  اسنا نے پاسداران انقلاب کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ان کرائے کے قاتلوں نے عوام میں خوف پھیلانے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کی شبیہ کو اپنی آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے خراب کرنے کی کوشش کی۔‘

ایرانی حکام کےمطابق یہ مغربی ایران میں کی گئی ہیں۔


اسرائیلی حملوں میں اب تک 585 اموات ہو چکی ہیں: انسانی حقوق گروپ

انسانی حقوق کے ایک گروپ نے بدھ کو بتایا ہے کہ 13 جون سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران بھر میں اب تک کم از کم 585 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 1,326 افراد زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق واشنگٹن میں قائم گروپ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والوں میں 239 عام شہری اور 126 سیکیورٹی اہلکار تھے۔

اس گروپ نے اعدادوشمار جمع کرتے ہوئے مقامی میڈیا رپورٹس کی ایران میں موجود اپنے ذرائع کے نیٹ ورک سے جانچ پڑتال کی۔

ایران اسرائیلی حملوں کے دوران جان سے جانے والوں کی تعداد کو باقاعدہ شائع نہیں کر رہا۔

پیر (16 جون) کو جاری ہونے والی اس کی آخری اپ ڈیٹ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 224 جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,277 بتائی گئی تھی۔


ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی خصوصی پرواز سے وطن واپسی

ایران میں پھنسے 107 پاکستانیوں کو لے کر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پہلی خصوصی پرواز بدھ کو اشک آباد سے اسلام آباد پہنچ گئی۔

پی آئی اے کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ایرانی فضائی حدود بندش کے باعث، ایران میں موجود پاکستانی شہری زمینی راستے کے ذریعے ترکمانستان کے شہر اشک آباد پہنچے تھے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ اس تمام عمل میں ایران اور ترکمانستان میں پاکستانی سفارت خانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

مزید کہا گیا کہ ’قومی ایئر لائن کی یہ خصوصی پرواز حکومتِ پاکستان کی ہدایات پر روانہ ہوئی تھی۔‘


اسرائیل کے تہران پر فضائی حملے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ کے مطالبے کے ایک روز بعد بدھ کی صبح اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر فضائی حملے کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق تہران میں بدھ کی صبح 5 بجے کے قریب ایک بڑے دھماکے کی آواز سنی گئی۔

اس حملے کے بارے میں ایرانی حکام کی طرف سے فوری طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔


ایران کا اسرائیل کے خلاف فتح ون میزائل استعمال کرنے کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو کہا ہے کہ اسرائیل پر حالیہ حملے میں ہائپر سونک میزائل فتح ون استعمال کیے گئے ہیں۔

 فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا: فخر انگیز آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کی گیارہویں لہر میں فتح ون میزائل استعمال کیے گئے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کے بعد تران سے شہریوں کا انخلا جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منگل کو دیے گئے انتباہ کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سے رہائشی انخلا کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ’فوری طورپر تہران خالی کرنے‘ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو ان کے تجویز کردہ ’معاہدے‘ پر دستخط کر لینے چاہیے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق تقریباً 95 لاکھ آبادی پر مشتمل تہران میں دکانیں اور تاریخی گرینڈ بازار منگل کو بند کر دیا گیا تھا۔

تہران سے مغرب کی جانب سڑکوں پر ٹریفک جام نظر آیا جبکہ گیس سٹیشنوں پر بھی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

ایک رہائشی نے اے پی کو فون پر بتایا: ’ایسا لگتا ہے کہ اس شہر میں کوئی نہیں رہ رہا۔‘


ٹرمپ کی ایران پر قومی سلامتی کونسل سے ملاقات: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر تبادلہ خیال کے لیے اپنی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ ملاقات کی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ ملاقات وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں ہوئی اور تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ جاری رہی، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکہ فی الحال ایران کے سپریم لیڈر کو قتل نہیں کرے گا۔ انہوں نے تہران سے ’بلا مشروط‘ ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم ان کا اصرار ہے کہ اب تک واشنگٹن کا اس مہم میں براہِ راست کوئی کردار نہیں رہا۔

ٹرمپ جن آپشنز پر غور کر رہے ہیں، ان میں سب سے زیادہ ممکنہ اقدام یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ ایران کے زیر زمین انتہائی گہرائی میں واقع فردو جوہری تنصیب پر حملے کے لیے اپنے ’بنکر بسٹر‘ (زمین دوز تباہ کن) بم استعمال کرے، کیونکہ یہ وہ ہدف ہے جسے اسرائیلی بم نشانہ نہیں بنا سکتے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ اس امکان پر بھی غور کر رہے ہیں کہ امریکی طیارہ بردار جہاز اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو فضائی ری فیولنگ فراہم کریں تاکہ وہ دور رس مشن مکمل کر سکیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو غیر مؤثر بنانا ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے۔ مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ تہران اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اگرچہ ایران اس سے انکار کرتا ہے۔

تاہم، ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے عندیہ ملتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا آپشن دوبارہ زیرِ غور آ چکا ہے، حالانکہ چند روز قبل ایک امریکی اہلکار نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں