ہونٹ کی بناوٹ کو دیکھ کر الفاظ سیکھنے والا انوکھا روبوٹ تیار

ہونٹ کی بناوٹ کو دیکھ کر الفاظ سیکھنے والا انوکھا روبوٹ تیار

ہونٹ کی بناوٹ کو دیکھ کر الفاظ سیکھنے والا انوکھا روبوٹ تیار

ایمو نامی یہ روبوٹ دراصل ایک روبوٹک سر ہے جس میں 26 چھوٹے موٹرز اس کی لچکدار سلیکون کی جلد کے نیچے نصب ہیں

کولمبیا یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو لفظوں کی ادائیگی کی صورت میں ہونٹوں کی بناوٹ کو دیکھ کر سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ ہونٹ کہے گئے الفاظ کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہوسکے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے روبوٹکس کے پی ایچ ڈی طالب علم یوہانگ ہو، پروفیسر ہود لپسن اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے تیار کیا گیا ایمو نامی یہ روبوٹ دراصل ایک روبوٹک سر ہے جس میں 26 چھوٹے موٹرز اس کی لچکدار سلیکون کی جلد کے نیچے نصب ہیں، جب یہ موٹرز مختلف کمبینیشنز میں حرکت کرتے ہیں، تو چہرہ مختلف تاثرات اختیار کرتا ہے اور ہونٹ مختلف شکلیں بناتے ہیں۔

سائنسدانوں نے سب سے پہلے ایمو کو ایک آئینے کے سامنے رکھا، جہاں یہ خود کو دیکھتے ہوئے بے ترتیب طور پر ہزاروں چہرے کے تاثرات بناتا رہا۔ اس عمل نے اسے سکھایا کہ کس موٹر ایکٹیویشن کے مجموعے سے کون سے چہرے کے تاثرات پیدا ہوتے ہیں،  یہ سیکھنے کا طریقہ “ویژن ٹو ایکشن” (VLA) زبان ماڈل کہلاتا ہے۔

اس کے بعد روبوٹ نے یوٹیوب ویڈیوز دیکھیں جن میں لوگ باتیں کر رہے تھے اور گانا گا رہےتھے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ کون سی ہونٹ کی حرکتیں کون سی آوازوں کے ساتھ آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹ نے 100 کلومیٹر مسافت طے کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

روبوٹ میں موجود مصنوعی ذہانت کے نظام نے اس علم کو VLA ماڈل کے ساتھ ملا دیا، جس کی بدولت اس نے مصنوعی آواز کے ماڈیول کے ذریعے بولتے ہوئے ہونٹوں سے مشابہ حرکتیں پیدا کیں۔

یہ ٹیکنالوجی ابھی مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہے، اس میں خامیاں موجود ہیں کیونکہ ایموکو ابھی بھی بی اور ڈبلیو اور جیسے آوازوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

 تاہم، جیسے جیسے یہ مزید بولنے کی مشق کرتا جائے گا، اس کی صلاحیت میں مزید بہتری آئے گی اور یہ مسقبل میں انسانوں کے ساتھ قدرتی طور پر گفتگو کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔

یوہانگ کا کہنا ہے کہ جب لِپ سنک کی صلاحیت کو چیٹ جی پی ٹی یا جمنائی جیسے بات چیت کرنے والے مصنوعی ذہانت کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، تو اس کا اثر انسان کے ساتھ روبوٹ کے تعلق کو ایک نیا انداز فراہم کرتا ہے۔ جتنا زیادہ روبوٹ انسانوں کو بات کرتے ہوئے دیکھے گا، اتنا ہی یہ ان چہرے کے ہنر کو بہتر طور پر نقل کرنے کے قابل ہو گا جن سے ہم جذباتی طور پر جڑتے ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں